صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 69 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 69

صحيح البخاری جلد ۴ ٦٩ ۳۴- كتاب البيوع آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی فرمایا۔ ( روایت نمبر ۲۶۱۱) عرب میں مویشی خصوصاً سواری کے جانوروں کی تجارت کا عام رواج تھا ، اس لئے تجارتی کاروبار کے تعلق میں پہلے انہی جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے جو سواری کے لئے مخصوص تھے۔ عنوان باب کے ایک حصے میں شِرَاءُ الدَّوَاتِ وَالْحَمِيرِ اور دوسرے حصے میں إِذَا اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ جَمَلا اسی غرض سے نمایاں کئے گئے ہیں تا چوپایوں میں سے دونوں جانوروں کا ذکر نمایاں ہو جن کا تعلق سواری سے ہے اور جن کی تجارت بلاد عربیہ میں عام تھی۔ اس تجارت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نیک نمونہ سب سے پہلے پیش کیا گیا ہے۔ باب ٣٥ الْأَسْوَاقُ الَّتِي كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَبَايَعَ بِهَا النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ منڈیاں جو زمانہ جاہلیت میں تھیں اسلام کے زمانے میں بھی لوگ وہاں آپس میں خرید و فروخت کرتے رہے ۲۰۹۸ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۰۹۸ : علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ (ابن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ہے ، عمرو سے، عمرو نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ۔ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمَجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ عکاظ ، مجنہ اور ذوال اور ذوالمجاز أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا كَانَ زمانہ جاہلیت میں منڈیاں تھیں۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو مسلمانوں نے ان میں تجارت کرنا گناہ سمجھا۔ الْإِسْلَامُ تَأَتَّمُوْا مِنَ التِّجَارَةِ فِيْهَا تب اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت نازل فرمائی : تم پر کوئی فَأَنْزَلَ اللهُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ گناہ نہیں کہ (حج کے اجتماع کے دنوں میں ان منڈیوں (البقرة: ١٩٩) فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ قَرَأَ میں تجارت کرو۔ حضرت ابن عباس نے مذکورہ ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَا ۔ اطرافه ۱۷۷۰، ٢٠٥٠، 4519۔ آیت میں فِی مَوَاسِمِ الْحَجِّ کے الفاظ بڑھائے۔ تشريح : الْأَسْوَاقَ الَّتِي كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَبَايَعَ بِهَا النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ : ع نوى کی صورت بیان کرنے ۔ کرنے کے بعد منڈیوں میں کاروبار کا ذکر چلایا گیا ہے۔ مذکورہ بالا منڈیاں عرب -------- عرب کی تجارت کا بہت بڑا مرکز تھیں ۔ جن کا تعلق ایک طرف شام کی تجارت سے تھا جو رومی سلطنت کی تجارت سے وابستہ تھیں اور دوسری طرف یمن کی تجارت سے اور اس کے واسطہ سے حبشہ، مصر، سوڈان اور ایران کی منڈیوں سے ان کا تعلق تھا۔