صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 68 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 68

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۸ ۳۴- كتاب البيوع أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ کو میرے پاس آنے کے لئے بلاؤ۔میں نے (دل میں ) ثَمَنُهُ۔کہا: اب آپ (میرا) اونٹ مجھے واپس کر دیں گے اور مجھے اس ( واپسی ) سے بڑھ کر اور کوئی بات نا پسند تھی۔فرمایا: اپنا اُونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔اطرافه ٤٤٣، ۱۸۰۱، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ۲۳۹٤، ٢٤٠٦، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٥٠ ٥٢٤٣۸۰ ،۵۰۷۹ ،۱۰۵۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲٢٨٦١، ٩٦٧ ،۲۷۱۸ ٥ ٥٣٦٧ ٦٣٨٧۲۷، ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٤٦ تشریح : هَلْ يَكُونُ ذَلِكَ قَبْضًا قَبْلَ أَنْ يُنْزِلَ : باب میں عقدی کی صحت کے لئے پانچ شرطیں بیان کی جاچکی ہیں جن میں سے ایک شرط قبضہ حاصل کرنے کی ہے۔اس تعلق میں فقہاء نے سوال اُٹھایا ہے کہ آیا الفاظ یعنی اور بعتُ یعنی میرے پاس بیچو اور میں نے بیچ دیا، بوقت خرید و فروخت زبانی قول واقرار ضروری ہے یا اس کے لئے قبضہ کی بھی شرط ہے، جس سے بیع تکمیل پاتی ہے۔بعض فقہاء نے قبضہ ضروری قرار دیا ہے۔ان کے نزدیک صرف زبانی قول واقر ار تکمیل بیچ کے لئے کافی نہیں۔(بداية المجتهد، كتاب البيوع، في بيع الطعام قبل قبضه له، الفصل الأوّل فيما يشترط فيه القبض) حدیث مندرجہ زیر باب کے الفاظ فَدَعْ جَمَلَکَ سے ظاہر ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اونٹ سے بالفعل دست بردار ہو گئے تھے اور وہ اسی دست برداری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں تھا اور پھر آپ نے قیمت دینے کے بعد وہ اونٹ بھی اُن کو واپس کر دیا۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ نفس بیچ زبانی قول واقرار سے طے پاگئی تھی۔قیمت کی ادائیگی اور قبضہ کی صورت تحمیل عقد سے تعلق رکھتی ہے نہ صحت بیع سے۔اس فرق کی طرف امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوانِ باب کے دوسرے حصہ میں اشارہ کیا ہے اور یہاں دراصل یہی مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے صحت عقد بیع کا نمونہ پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ بیع و شراء میں سہولت و ساحت جس کا ذکر باب ۶ اروایت نمبر ۲۰۷۶ میں گذر چکا ہے، کیسے ہوتی ہے۔اب اس باب سے بیع و شراء کی مختلف صورتوں کا بیان شروع ہے۔دابة کا لفظ کہنے کے بعد اَوْ جَمَلا کا ذکر کیوں کیا گیا ہے جبکہ دآبۃ کا لفظ ہر جانور گدھے، اونٹ، گائے، بیل، بھیٹر بکری پر اطلاق پاتا ہے۔علامہ عینی کے نزدیک لفظ جمل سے سواری والے جانوروں کی خرید و فروخت سے تعلق اشارہ کرنا مقصود ہے۔اگر یہ نہیں تو پھر اس تخصیص کی بظاہر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔(عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۱۴) شارحین نے مذکورہ سوال اُٹھا کر خاموشی اختیار کی ہے۔ابھی بتایا جا چکا ہے کہ باب 19 میں اسلامی بیع وشراء کا جو وصف تمہید بیان ہوا ہے، اُسے ان ابواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی بیع وشراء میں دکھانا مد نظر ہے۔یعنی اونٹ کی بیع وشراء کے بارے میں زبانی بات چیت ہوئی اور قیمت ٹھہرائی گئی اور اس میں یہ اجازت دی گئی کہ مدینہ تک حضرت جابر رضی اللہ عنہ اسی اونٹ پر سواری کر سکتے ہیں اور آخر قیمت دینے کے بعد وہ اونٹ بھی واپس کیا گیا۔یہی سلوک