صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 67
صحيح البخاری جلدم ۶۷ ۳۴- كتاب البيوع فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ أَبْطَاً کہا: اونٹ چلنے میں سُست ہو گیا ہے اور تھک گیا ہے۔عَلَيَّ جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ فَنَزَلَ اِس لئے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔تب آپ سواری سے يَحْجُنُهُ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ قَالَ ارْكَبْ اُتر کر اس کو اپنی کھونٹی سے کھینچنے لگے۔پھر فرمایا : سوار ہو فَرَكِبْتُهُ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَكْفُهُ عَنْ رَّسُوْلِ جاؤ تو میں سوار ہوا۔میں نے دیکھا کہ وہ اتنا تیز ہو گیا کہ رسول اللہ اللہ سے بھی آگے بڑھنے لگا ، جس پر مجھے ☑ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَزَوَّجْتَ اسے روکنا پڑا۔پھر آنحضرت نے مجھ سے دریافت فرمایا: قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِكْرًا أَمْ ثَيْبًا قُلْتُ بَلْ ثَيْبًا کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔قَالَ أَفَلَا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ فرمایا: کنواری یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: ( کنواری سے قُلْتُ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ نہیں) بلکہ بیوہ سے فرمایا: نوجوان ( باکرہ) سے کیوں أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ (شادی) نہ کی کہ تو اُس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی ؟ وَتَقُوْمُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَمَّا إِنَّكَ قَادِمٌ فَإِذَا میں نے کہا: میری کچھ بہنیں ہیں اور میں نے پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو اُن کی دلجوئی کرے، قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ثُمَّ قَالَ أَتَيْعُ کنگھی کرے اور اُن کی پرورش کرے۔فرمایا دیکھوتم جَمَلَكَ قُلْتُ نَعَمْ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأَوْقِيَّةٍ اب گھر پہنچنے والے ہی ہو۔جب پہنچ تو عقلمندی سے ثُمَّ قَدِمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ احتیاط سے کام لینا۔پھر آپ نے فرمایا: کیا تم اپنا یہ وَسَلَّمَ قَبْلِي وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْنَا انت بیچو گے ہمیں نے کہا: جی ہاں۔تو آپ نے وہ مجھ إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ سے ایک اوقیہ چاندی پر خرید لیا۔پھر رسول اللہ ﷺے مجھے الْمَسْجِدِ قَالَ الْآنَ قَدِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ سے پہلے (مدینہ پہنچے اور میں اگلی صبح کو پہنچا۔ہم مسجد أَ قَالَ فَدَعْ جَمَلَكَ فَادْخُلْ فَصَلَّ میں آئے تو میں نے آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا۔رَكْعَتَيْنِ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ فَأَمَرَ بِلَالًا آپ نے فرمایا: اب پہنچے ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔فرمایا: اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو۔أَنْ يَّرْنَ لَهُ أُوْقِيَّةً فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ چنانچہ میں اندر گیا اور نماز پڑھی۔حضرت بلال سے فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ فَانْطَلَقْتُ آپ نے فرمایا: اسے ایک اوقیہ تول کر چاندی دے دو۔حَتَّى وَلَّيْتُ فَقَالَ ادْعُ لِي جَابِرًا قُلْتُ حضرت بلال نے تول کر مجھے دے دی اور تول میں ترازو الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٍ کو جھکایا۔پھر میں پیٹھ موڑ کر چلا گیا۔آپ نے فرمایا: جابر