صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 66
صحيح البخاری جلد ۴ ५५ ۳۴- كتاب البيوع تشريح : شِرَاءُ الْإِمَامِ الْحَوَائِجِ بِنَفْسه: مذکورہ بال باب قائم کرنے سے یہ بتانا مقصد ہے کہ بازار ------- سے اشیاء خرید کر لانا اور بیع و شراء انسان کی عزت کے خلاف نہیں ، خواہ منصب امامت ہی پر کیوں نہ ہو۔ ہمارے ملک میں عزت کا غلط تصور قائم ہو چکا ہے جو در حقیقت رعونت اور تکبر ہے۔ متمدن ممالک میں بڑے چھوٹے سبھی بازار سے اپنی ضروریات زندگی خود حسب پسند خریدتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کا اس بارہ میں یہی اسوۂ حسنہ رہا ہے۔ عنوان باب میں حضرت عبداللہ بن عمر کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ کتاب الہبہ باب ۲۵ روایت نمبر ۲۶۱۱ میں موصولاً منقول ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے قول کا حوالہ کتاب البیوع باب ۹۹ روایت نمبر ۲۲۱۶ میں مفصل دیکھئے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے قول کا حوالہ اگلے باب ( باب ۳۴ روایت نمبر ۲۰۹۷) میں دیکھا جائے ۔ ان حوالہ جات کے پیش کرنے کا مقصد واضح ہے۔ باب ٣٤ : شِرَاءُ الدَّوَاتِ وَالْحَمِيرِ چوپایہ جانوروں اور گدھوں کی خریداری کے بیان میں وَإِذَا اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ جَمَلًا وَهُوَ عَلَيْهِ اور جب کوئی جانور یا اونٹ ایسے حال میں خریدے هَلْ يَكُوْنُ ذَلِكَ قَبْضًا قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ کہ (بیچنے والا ) اُس پر سوار ہو تو کیا یہ (خریداری بیچنے وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ والے کے) اُترنے سے پہلے باقبضہ ہوگی۔اور النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ بِعْنِيْهِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی صل اللہ علیہ وسلم يَعْنِي جَمَلًا صَعْبًا ۔ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ یہ منہ زور اونٹ میرے پاس بیچ دو۔ ۲۰۹۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۲۰۹۷ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ نے ہم کو بتایا۔ عبید اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ نے وہب بن کیسان سے ، وہب بن کیسان نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں ایک غزوہ میں تھا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَو میرے اُونٹ کی رفتار سست ہوگئی اور وہ تھک گیا تو غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَأَتَى عَلَيَّ في ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا: جابر! میں نے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جَابِرٌ عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے