صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 63
صحيح البخاری جلدم ۶۳ ۳۴- كتاب البيوع اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ مشرقی حصہ مکان کے اس چوبارے میں تھا جو بعد کو حضرت ام ناصر احمد رضی اللہ عنہا کے مکان سے مشہور ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اپنے مکان کے اس حصہ میں یہ فرماتے ہوئے جگہ دی کہ اس مکان سے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے : إِنِّی أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ میں ہر اس فرد کی حفاظت کروں گا جو اس گھر کی چار دیواری میں ہے۔ہمارے چوبارے کی کھڑکی اس غربی کو ٹھے کی والان پر کھلی تھی۔اس میں رہنے والا خاندان طاعون سے ہلاک ہونا شروع ہوا اور ہم صبح و شام رونے والوں کا رونا اور بین کرنے والیوں کے بین سننے لگے۔آخر وہ خاندان اس مکان کو چھوڑنے اور بیچنے پر مجبور ہوا اور پھر وہ جگہ بطور حق شفع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قبضہ میں آئی اور وہاں ایک پختہ مکان تعمیر ہوا۔جہاں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح پرور تقریریں سنیں اور حضرت خلیفہ اول کے درس قرآن مجید اور حدیث شریف میں شریک ہوئے اور وہ گھر برکت دیا گیا اور اس میں اور بھی توسیع ہوئی اور آخر صاحبزادہ حضرت میاں بشیر احمد کی وہی جگہ رہائش گاہ ہوئی اور بعد میں مزید توسیع ہونے لگی۔غرض دعا کرنے والے کو ٹھے اور آمین کہنے والے کو مجھے سے متعلق مشاہدہ واقعات کی صورت میں ہم نے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا۔اسی قسم کے مشاہدات سے خاکسار پیپر منٹ والا مشاہدہ بھی ہے۔آپ کی طبیعت ناساز تھی۔کشفی حالت میں ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہواتھا خاکسار پیپرمنٹ“۔( تذکرہ -۲۰ فروری ۱۹۰۵ صفحه ۴۴۳) چنانچہ یہ دوائی استعمال کی گئی اور آپ کی طبیعت بحال ہوئی۔میں ان دنوں قادیان میں پڑھتا تھا اور واقعہ کے بیسیوں گواہوں میں سے ایک میں بھی ہوں۔اسی قبیل کے مکاشفات میں سے آپ کا وہ مکاشفہ بھی ہے جس میں زمین آپ کے سامنے متمثل ہو کر آپ سے بزبان عربی یوں مخاطب ہوئی: يَا وَلِيَّ اللهِ كُنتُ لَا اَغرِ فک (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۰) یعنی اے خدا کے ولی ! میں اس سے پہلے تجھے نہیں پہچانتی تھی۔ان الفاظ سے پایا جاتا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ زمین آپ کو قبول کرے گی۔جوں جوں زمانہ گزر رہا ہے اس مکاشفہ کی صداقت اطراف عالم میں ظاہر ہوتی چلی جا رہی ہے۔زمین کا یہ کلام ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے۔جس کی نسبت کلمات وحی کی واضح بشارتیں بکثرت ہیں جو تذ کرہ وغیرہ کتب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ان واقعات سے روایت نمبر ۲۰۹۵ کے تعلق میں جذع النخلة کے زار ونزار رونے کی حقیقت کا تازہ نمونہ بیان کرنا مقصود ہے اور بعید نہیں کہ جو مشاہدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو ہوا، اُس سے یہ مراد ہو کہ نخلستان عرب محبت الہیہ میں سرشار وزار و نزار ہوگا جیسا کہ سارے جہان نے دیکھا کہ ارض حجاز کی بے آب و گیاہ بنجر زمین میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انفاس قدسیہ کی برکت سے حیرت انگیز انقلاب رونما ہوا جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔اگر روحانی مشاہدات کے متعلق سابقہ واقعات کا ذکر کرنے لگوں تو یہ تشریح طول پکڑ جائے گی۔تذکرہ اولیاء میں یہ واقعات پڑھے سنے جاسکتے ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ حضرت ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے، جس میں مٹی کے کورے برتن نے اُن سے گفتگو کی اور جس خواہش کا اُس نے اظہار کیا وہ اسی وقت پوری ہوئی۔بیگانہ کر از حقیقت مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ امر سو فیصدی درست ہے۔لَا تُحَاطُ اَسْرَارُ الْاَوْلِيَاءِ۔بے شک اولیاء اللہ کے اسرار کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔لیکن یہ