صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 62 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 62

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۲ ۳۴- كتاب البيوع اسلامی نظریہ حیات کتاب الاذان باب ۵ میں اختصار سے گزر چکا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں حکایت فرماتا ہے: وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوا انْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي انْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ ( حم السجدة: (۲۲) یعنی اعداء اللہ کے کانوں اور آنکھوں اور اُن کے چھپڑوں نے اُن کے خلاف شہادت دی تو اُن جہنمیوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی؟ تو انہوں نے کہا: اُسی اللہ نے ہمیں گویا کیا ہے جس نے ہر شے کو گویائی بخشی۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ہر شے کو نطق کی قابلیت دی گئی ہے جس کے طفیل وہ اپنے مکنونات کے اظہار پر قادر ہے۔ہر ذرہ کائنات خواص کا ایک وسیع خزانہ ہے اور اسے مناسب حال قوت گویائی دی گئی ہے۔جس کے ذریعے سے انسان پوشیدہ خواص الاشیاء کو ظاہر کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔اگر نطق و استنطاق کی خداداد قابلیت نہ ہوتی تو علم کیمیاء وطبعیات و علم عقاقیر (جڑی بوٹی) کی ضخیم کتب قرابادین (Materia Medica ) کا وجود بھی نہ ہوتا اور یہ عالم ، عالم ( منبع علوم ) نہ ہوتا بلکہ گم صم ہیولی بے نطق و گنگ ہوتا جو اپنے خالق کی طرف راہنمائی کرنے سے عاجز رہتا۔لیکن خالق قدیر نے کائنات عالم کو مناسب حال قوت نطق عطا کر کے انسان کو استنطاق کی قابلیت عطا کی ہے۔حضرت مولانا روم نے اسی حقیقت کو ایک شعر میں پیش کر کے مذکورہ بالا واقعہ سنانہ کی صحیح ترجمانی کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بے شمار اولیاء اللہ پائے گئے ہیں جنہیں انبیاء علیہم السلام کے سے حواس دیئے گئے اور جنہیں مشاہدات روحانی سے وافر حصہ ملا اور وہ اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر گواہ ٹھہرے ہیں اور اُن کی تصدیق امت محمدیہ کے لاکھوں افراد ہر صدی میں کرتے رہے ہیں۔کسی واقعہ کی حقانیت پر اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہوسکتی ہے؟ اس تعلق میں دو باتیں مدنظر رکھنا ضروری ہیں: (اول) معانی کا ایسے طور سے متمثل ہونا کہ وہ احساسات کا جزو بن جاتی ہیں اور اُن پر پورے طور پر ظاہر وباطن میں مسلط اور مستولی ہوتی ہیں۔( دوم ) معانی متملہ ومخصوصہ کا ظہور واقعات میں بھی نمایاں طور پر ہوتا ہے۔ہمارے زمانہ کی تازہ مثالوں میں سے ایک مشاہدہ کو ٹھے کی دعا کا ذکر کیا جا چکا ہے۔حضرت مسیح موعود الک کے اس مشاہدہ کا ذکر دوبار ملتا ہے۔پہلی بار ۱۹۰۲ء میں۔(دیکھئے تذکرہ - بتاریخ ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۵۹) دوسری بار ۱۹۰۴ء میں۔تذکرہ - تاریخ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۴۱۹) مکان تنگ تھا۔توسیع کی ضرورت تھی اور اس بارے میں ۱۸۸۲ء میں آپ کو وجی ہو چکی تھی : وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمْ مِنَ النَّاسِ وَوَسِعُ مَكَانَگ یعنی ملاقات کرنے والوں کا بہت ہجوم ہو جائے گا، اس سے اکتانا نہیں اور اپنے مکان کو وسیع کر۔(سراج منیر صفحہ اے، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۳ ) آپ کو توسیع مکان کی ضرورت و فکر تھی۔آپ نے دیکھا کہ زمین کے مشرقی حصہ نے عمارت کے بنے کے لئے دعا کی اور مغربی حصے کی زمین افتادہ نے آمین کہی ہے۔(حقیقۃ الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۹۳) یہ افتاده زمین ایک مخالف خاندان کی تھی اور جب کو ٹھے میں رہنے والا خاندان طاعون سے ہلاک ہونے لگا تو میں