صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 64 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 64

صحيح البخاری جلد ۴ ۶ ۳۴- كتاب البيوع بات مجھنی مشکل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کُن سے سارا عالم وجود پذیر ہوا ہے۔ اِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنُ فَيَكُونُ 0 (یس : ۸۳) یعنی اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ جس قادر خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر دی کہ آپ کے پاس قادیان میں کثرت سے لوگ آ ئیں گے اور یہ کہ آپ کو مکان وسیع کرنا چاہیے اور جس نے اس گمنام بستی میں ہجوم خلق سے ارضِ حرم کا نمونہ دکھا دیا۔ اُس خدا نے زمین کو متمثل کر کے اسے گویائی دی اور اس سے کلام کرایا۔ پھر اسی قادر خدا نے جِذْعُ النَّخْلَةَ کی گریہ وزاری کا نظارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو دکھایا اور قدرت تخلیق کا یہ نمونہ كُنْ فَيَكُون کا ظہور تھا۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مدینہ طیبہ میں جب انہوں نے حضرت شاہ عبدالغنی صاحب سے بیعت کا ارادہ کیا تو انہوں نے اُن سے پوچھا کہ بیعت کا کیا فائدہ ہے ؟ تو انہوں نے بے ساختہ فرمایا: سمعی کشفی گردد۔ شنیده بات مشاہدہ میں آجاتی ہے ۔ (حیات نور مصنفہ عبد القادر سابق سوداگر مل ، باب اول صفحہ ۵۵) مذکورہ بالا واقعہ سے صحابہ کرام کو عجائبات خلق کا مشاہدہ کرایا گیا۔ اس زمانہ دہریت میں کوئی یقین کرے نہ کرے، ہمیں مذکورہ بالا اسرار کی حقانیت میں ذرا بھر شبہ نہیں بلکہ ان کی صداقت پر کامل یقین ہے۔ عرصہ ہوا کہ کشمیر کی آزادی سے متعلق جو تحریک حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اُٹھائی تھی۔ اسی اثناء میں میں کشمیر کے دور دراز کے علاقوں میں سفروں میں تھا کہ کھانسی سے۔ ی سے بیمار ہوا اور راول اور راولپنڈی سے قادیان پہنچا۔ معلوم ہوا کہ ذات الجنب (pleurisy) کا عارضہ ہے۔ میرے دوست مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے معالج تھے اور میرے بھائی ڈاکٹر میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ ملتان میں تھے۔ انہیں مجھ سے بہت محبت تھی۔ میری بیماری کا سن کر معہ بیوی قادیان آئے اور آنے سے پہلے شیخ فضل الرحمن صاحب ملتانی مرحوم کے ذریعہ سے ایک گائے بطور صدقہ کرائی۔ انہیں صدقہ پر بڑا یقین تھا۔ انہوں نے حالت دیکھ کر (Lumber puncture) کا علاج تجویز کیا۔ اس ذریعہ سے پھیپھڑے کے پردے سے پانی نکالا جا رہا تھا تو پچکاری کی سوئی جلد میں ٹوٹ گئی۔ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نئی سوئی شفا خانہ نور سے دوڑ کر لے آئے۔ میں اُن دنوں اپنے مکان دارالانوار میں تھا۔ جمعہ کا دن تھا، سوئی نکالی گئی اور کچھ پانی بھی نکلا لیکن میری حالت دگرگوں ہو گئی۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی اللہ کوعلم ہوا تو آپ معہ خاندان تشریف لائے ۔ حضرت ام المومنین رضی اللہ ع ن رضی اللہ عنہا سیدہ ام ناصر احد صاحب اور سیدہ ام طاہر احمد صحبہ رضی اللہ عنہا دیکھ کر سخت رنج میں ڈوب گئیں۔ بھائی نے آبدیدہ ہو کر دیوار ہوکر سے دیوار سے سہارا لیا۔ نبض کی حالت دیکھ کر مایوسی طاری تھی۔ اسی 1 اطاری تھی۔ اسی اثناء میں حضرت خلیفۃ المسیح ا المسیح الثاني ہ ایک دوسرے کمرے میں دعا کے لئے الگ ہو گئے ۔ اُدھر وہ دعا میں تھے ادھر میں اپنے عزیز واقرباء کو بے بسی میں دیکھ رہا تھا۔ میں نے اچانک دیکھا کہ فضائے بالا سے فرشتوں کا اُتار چڑھاؤ ہے۔ اُن میں سے کسی نے میرے دل کو تھاما اور کسی نے پھیپھڑوں کو اور ایک نے شیشے کا گلاس میرے سامنے پیش کیا۔ اس میں آب زلال تھا اور جلی حروف میں گلاس پر رحم