صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 58
صحيح البخاری جلدم ۵۸ بَاب ٣٠ : الْخَيَّاط درزی (کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے ) ۳۴- كتاب البيوع ۲۰۹۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۰۹۲ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مالک نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے روایت ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ کرتے ہوئے ہمیں خبر دی۔انہوں نے حضرت انس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ ایک رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خیاط نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکھانے کی دعوت لِطَعَامٍ صَنَعَهُ۔قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ دى جو اُس نے تیار کیا تھا۔حضرت انس بن مالک فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَى بھی اس دعوت میں چلا گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا کے سامنے اُس نے روٹی اور شور با پیش کیا جس میں وَمَرَقًا فِيْهِ دُبَّاءً وَقَدِيْدٌ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ کدو کے قتلے اور گوشت کی بوٹیاں تھیں۔میں نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ صلى الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پیالے کے اردگرد حَوَالَي الْقَصْعَةِ قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ سے جہاں کدو ہوتا لیتے۔(حضرت انسٹ) کہتے تھے: الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ۔اطرافه ،۵۳۷۹، ٥٤۲۰ ٥٤٣٣، ٥٤٣٥، ٥٤٣٦، ٥٤٣٧ ٥٤٣٩۔میں اُس دن سے ہی کدو پسند کرتا ہوں۔↓ بَاب ۳۱ : النَّسَاجُ - بافندے (کے ذکر میں جو بیان آیا ہے ) ۲۰۹۳: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۰۹۳: حجی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بن عبد الرحمن نے ابو حازم سے روایت کرتے ہوئے عمدة القاری کے مطابق عنوان باب ذِكْرُ الْخَيَّاطِ اور باب ذكر النساج ہے (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۱ ۲۱۱) بافندہ سے مراد کپڑا اپنے والا ہے۔(اردو لغت - بافندہ)