صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 57
صحيح البخاری جلد AL ۳۴- كتاب البيوع فَنَزَلَتْ : أَفَرَعَيْتَ الَّذِى كَفَرَ کہا: اچھا۔اُس وقت تک مجھے رہنے دو کہ میں بایتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَ مَالًا مرجاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔تب جو مال اور اولاد وَوَلَدَاهُ أَطَلَعَ الْغَيْبَ آمِ اتَّخَذَ مجھے (وہاں) ملے گی۔میں (اس سے) تیرا قرض ادا عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدَال کر دوں گا۔اس پر ( یہ آیت نازل ہوئی : کیا تو نے (المريم: ۷۸-۷۹) اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا: مجھے ضرور مال اور اولا د دی جائے گی۔کیا اُس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمان خدا سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔اطرافه ۲۲۷۵، ٢٤۲۵ ،٤٧٣٢ ، ٤٧٣٣، ٤٧٣٤، ٤٧٣٥۔تشریح: ذِكْرُ الْقَيْنِ وَالْحَدَّادِ : چارباب نمبر ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲) قائم کر کے مزید پیشوں کا ذکر کیا ہے۔کاریگر، لوہار، درزی، بافندہ اور بڑھتی۔لفظ قین لوہار، زرگر اور دوسرے کاریگروں پر اطلاق پاتا ہے، جو کسی دھات کو ڈھال کر سامان وغیرہ بنائے۔قانَ ، يَقِینُ ، قَيْنًا کے معنے ہیں: اُس نے ڈھالا۔(اقرب الموارد-قین) یہ پیشے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے۔مسلم و غیر مسلم ان پیشوں کو اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے اور آب تک مغربی ممالک میں پیشہ وری قابل عزت سمجھی جاتی ہے۔ایک شخص وزارت کے منصب پر فائز ہونے پر بھی اپنے نام کے ساتھ اپنے آبائی پیشے کا ذکر کرتا ہے۔مثلا حداد (لوہار ) ، بقال (سبزی فروش) ، جبال (رسی پر بنانے والا اور بیچنے والا)، زیات ( تیل بیچنے والا ) ، حلاج ( دُھنیا ) اور حذاء ( جوتا بنانے والا ) وغیرہ۔پیشہ وروں میں اولیاء اللہ بھی گزرے ہیں اور ان کے ناموں کے ساتھ ان کے پیشوں کا بھی ذکر ہے۔لیکن ہمارے ملک میں پیشہ وری بنظر حقارت دیکھی جاتی ہے جس کا اصل ہند و تمدن ہے جو ذات پات میں فرق کرتا ہے۔ہندؤوں میں پیشہ ور کا نام ہی کمین اور شودر ہے۔قرآن مجید میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ہاتھ کی کمائی کو افضل ذریعہ معاش قرار دیا گیا ہے۔(دیکھئے باب ۱۵، روایت نمبر ۲۰۷۲) فَنَزَلَتْ : روایت نمبر ۲۰۹ میں عاص بن وائل سے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے مطالبہ قرض کا ذکر ہے اور اس ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہ آیت أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا۔۔۔(مريم: ۷۸) یعنی کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا: مجھے ضرور مال اور اولاد دی جائے گی۔اس گفتگو سے تعلق میں نازل ہوئی جو عاص بن وائل نے کی۔اس نزول سے تطبیق مراد ہے۔