صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 54 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 54

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۴ ۳۴- كتاب البيوع اس روایت کو بیان کیا ہے۔مسند احمد بن حنبل میں ایک اور جگہ حضرت ابوذر کی یہ روایت ان الفاظ میں منقول ہے : ثَلَاثَةٌ يَشْؤُهُمُ الله۔۔۔۔التَّاجِرُ الْحَلافُ اَوْ قَالَ الْبَائِعُ الْحَلافُ وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ (متراحمد بن حنبل، مسند الانصار، حدیث ابی ذر، جزء ۵ صفحہ ۱۵۱) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب حضرت ابوذر اور حضرت اشعث بن قیس کو دیا، وہ بصورت تطبیق آیت ہی تھا نہ یہ کہ اس وقت نازل ہوئی۔بَاب ۲۸ : مَا قِيْلَ فِي الصَّوَّاعْ سناروں کے بارہ میں جو کچھ کہا گیا ہے وَقَالَ طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ اور طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ( مکہ کی ) گھاس نہ کائی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَقَالَ جائے۔حضرت عباس نے عرض کیا: سوائے اذخر گھاس کے، کیونکہ وہ ان کے کاریگروں اور ان کے گھروں کے الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ استعمال کی چیز ہے۔اس پر آنحضرت ﷺ نے ) {وَبُيُؤْتِهِمْ} فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ۔فرمایا: اذخر گھاس کاٹ لو، (اس کی اجازت ہے۔) ۲۰۸۹ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ :۲۰۸۹ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بن مبارک ) نے ہمیں خبر دی۔یونس نے ابن شہاب قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ أَنَّ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: حُسَيْنَ بْنَ عَلِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلی بن حسین نے مجھے خبر دی کہ حضرت حسین بن علی أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ: كَانَتْ لِي شَارِفٌ رضی اللہ عنہما نے اُن کو بتایا کہ حضرت علیؓ نے کہا: میری مِنْ نَصِيْبِي مِنَ الْمَغْنَمِ وَكَانَ النَّبِيُّ ایک بوڑھی اونٹنی تھی جو مجھے غنیمت سے بطور حصہ ملی تھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بوڑھی اونٹنی غنیمت مِنَ الْخُمْسِ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ کے پانچویں حصے سے مجھے دی تھی۔جب میں نے بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ کو اپنے گھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاعًا لانے کا ارادہ کیا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار لفظ وبيوتهم فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جز ۴۰ حاشیہ صفحہ ۴۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔" "