صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 761 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 761

صحيح البخاري - جلد ۴ ۷۶۱ ۵۲ - كتاب الشهادات النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ بنت زمعہ نے اپنی باری کا دن اور رات نبی صلی اللہ رِضَا رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ کو دے دیا تھا۔ اس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتی تھیں ۔ ،٤٧٥۰ ،٤٧٤٩ ،4690 ،4141 ،40اطرافه: ٢٥٩٣، ٢٦٣٧، ٢٦٦١، ٢٨٧٩، ٢٥ ٠٧٥ ٧٥٤٥۰۰ ،۷۳۷۰ ،٤٧٥٧ ، ٥٢١٢، ٦٦٦٢ ، ٦٦٧٩، ٧٣٦٩ ٢٦٨٩: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: ۲۶۸۹: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ سُمَيّ مَوْلَى أَبِي نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوبکر ( بن بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عبد الرحمن) کے غلام مئی سے بھی نے ابو صالح سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي لوگ جانتے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے النِّدَاءِ وَالصَّفِ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا تو پھر سوائے قرعہ ڈالنے کے انہیں کوئی جگہ بھی نہ ملتی ، إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوْا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوْا وَلَوْ سواس کے لئے قرعہ ڈالتے ۔ اور اگر وہ جانتے کہ نماز يَعْلَمُوْنَ مَا فِي التَّهْجِيْرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَيْهِ میں اول وقت جانے کے لئے کیا ثواب ہے تو وہ اس وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ۔ اطرافه 615، 654، ٧٢١۔ لپکتے ۔ اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور صبح کی باجماعت نماز میں کیا ثواب ہے تو ان دونوں میں آتے اگر چہ انہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا۔ تشريح : الْقُرْعَةُ فِي الْمُشْكِلَاتِ : قرعہ اندازی کا طریق ازمنہ قدیم سے رائج ہے۔ اس سے بہت سے جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کا تعلق حقوق دانی سے ہے۔ حدود و تعزیرات میں قرعہ اندازی جائز نہیں۔ قرآن مجید کی آیات اور مندرجہ بالا احادیث سے ان اُمور کی نوعیت واضح کی گئی ہے جن میں قرعہ ڈالا جا سکتا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت کا ذکر سورہ آل عمران آیت ۴۵ میں ہے اور حضرت یونس علیہ السلام سے متعلق قرعه اندازی کا ذکر سورۃ الصافات آیت ۱۴۲ میں ہے۔ باب کی پہلی حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ حدود اللہ کے توڑنے میں قرعہ اندازی کا طریق معاشرہ کے سارے افراد کی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنے والا ہے۔ دوسری اور تیسری روایتوں میں مدنی