صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 760
صحيح البخاری جلدم 24۔۵۲ - كتاب الشهادات أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ يا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ معلوم نہیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ: أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَاءَهُ وَاللَّهِ عثمان جو ہیں وہ تو اب فوت ہوگئے اور میں ان کے الْيَقِيْنُ وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللَّهِ مَا لئے بہتری کی ہی اُمید رکھتا ہوں۔لیکن اللہ کی قسم ! أَدْري وَأَنَا رَسُوْلُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ میں بھی نہیں جانتا کہ عثمان کے ساتھ کیا ہوگا۔میں اللہ کا به۔قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَا أُزَكّى أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا رسول ہوں۔یہ سن کر حضرت ام علامہ نے کہا: بخدا اس وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ۔قَالَتْ : فَنِمْتُ فَأُرِيْتُ کے بعد میں کسی کو بھی معصوم نہیں ٹھہراؤں گی اور مجھے اس بات نے غمگین کر دیا۔کہتی تھیں : میں سوگئی اور مجھے خواب لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : ذَلِكَ عَمَلُهُ میں حضرت عثمان کا ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہہ رہا تھا۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے آپ کو بتایا۔آپ نے فرمایا: یہ اس کے عمل ہیں۔اطرافه ،۱۲٤۳ ، ۳۹۲۹، ۷۰۰۳، ۷۰۰۱، ۷۰۱۸، ٢٦٨٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۲۶۸۸ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَن عبدالله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔یونس نے الزُّهْرِي قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کرتے ہوئے مجھے بتایا۔کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ عليه وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ۔وَكَان کے درمیان قرعہ ڈالتے۔پھر ان میں سے جس کا يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا قرعہ نکلتا، اسے آپ اپنے ہمراہ لے جاتے اور آپ وَلَيْلَتَهَا۔غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ نے اپنی بیویوں میں سے ہر ایک بیوی کے لئے اس کا وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْج دن اور رات باری سے مقرر کر دیا تھا۔مگر حضرت سودہ