صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 762
صحيح البخاری جلدم ۵۲ - كتاب الشهادات نوعیت کی قرعہ اندازی کا ذکر ہے۔جیسے تقسیم جائداد و اراضی میں سے کونسی زمین یا اشیاء میں سے کونسی شے کسی شریک کو ملے۔اگر شر کا قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کرنا پسند کریں تو قرعہ ڈالا جا سکتا ہے۔سے مَثَلُ الْمُدْهِن فِي حُدُودِ اللَّهِ۔۔۔۔۔أَدْهَنَ يُدْهِنُ إِدْهَانًا، دَاهَنَ يُدَاهِنُ مُدَاهَنَةٌ۔دَهَنَ = مشتق ہے۔جس کے معنے روغن کے ہیں۔روغن ملنے سے شئے ملائم ہو جاتی ہے۔مداہنت سے مراونرمی، چشم پوشی، چکنی چپڑی باتیں کرنا اور ریا کاری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا مثال میں حدود اللہ پر قائم ہونے والوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کی مثال دی ہے جو حدود اللہ کوتوڑتے یا خاموشی سے خلاف ورزی احکام دیکھتے ہیں اور حدود توڑنے والوں کو نہیں روکتے۔آخر دونوں ہلاک ہوں گے۔بلکہ کشتی کی طرح سارا معاشرہ غرق ہوگا اور بروں کے ساتھ بھلے بھی تباہ ہوں گے۔معاشرے کی سلامتی حدود اللہ کے قیام ہی میں ہے۔کتاب الشهادات کا یہ خاتمہ کہ بچی شہادت سے نہ صرف انفرادی حقوق ہی محفوظ رہتے ہیں بلکہ ساری قوم کی حفاظت ہوتی ہے۔کچی شہادت دینے میں بے شک مشکلات پیش آتی ہیں۔مگر مشکلات کا حل جھوٹ یا سچائی سے پہلو تہی نہیں بلکہ مشیت الہی اور نصرت ربانی میں ہے جو صادقوں کو آڑے وقتوں میں کام دیتی ہے۔یہی نکتہ معرفت سمجھانے کے لئے مشکلات کا عنوان قائم کر کے دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔پہلی آیت یہ ہے: ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُوْنَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ (آل عمران: ۴۵ بر غیب کی خبروں میں سے ایک خبر ہے جو ہم تجھ پر وحی کے ذریعہ سے ظاہر کرتے ہیں۔جب وہ اپنے قلم ڈالتے تھے کہ ان میں سے کون حضرت مریم کی خبر گیری کرے تو تو اُن کے پاس موجود نہ تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔یعنی اس وقت ہم موجود تھے اور ہماری مرضی اور تدبیر ہی تھی جو مریم کی پرورش کے بارے میں فیصلہ کرا رہی تھی اور آخر وہ حضرت زکریا علیہ السلام کے حصہ میں آئی جس سے ایک قوم کی نجات کا سامان پیدا ہوا۔دوسری آیت یہ ہے: وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ إِذْ اَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُون۔فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ (الصافات: ۱۴۰-۱۴۲) اور یونس بھی یقینا رسولوں میں سے تھے۔جب وہ بھاگ کر بار برداری سے بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوئے ( اور بوقت خطرہ غرقابی) قرعہ اندازی میں شامل ہوئے تو وہ ان سواریوں میں سے تھے جنہیں پھینکا گیا اور ایک بڑی مچھلی انہیں نگل گئی اور حالت یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔واقعہ کی تفصیل کے لئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ تشریح سورۃ یونس جلد ۳ صفحہ ۱۲۹ تا ۱۳۱ د یکھئے۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بھی اس امر کی راہنمائی کرتا ہے کہ مشکلات اور خطرے سے نجات دینے والا دراصل اللہ تعالیٰ ہی ہے۔اسی پر توکل کرتے ہوئے سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے۔0000000000