صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 759 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 759

صحيح البخاری جلدم ۷۵۹ ۵۲ - كتاب الشهادات وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ وَإِنْ تَرَكُوْهُ أَهْلَكُوْهُ نے کہا: تم کو میرے آنے جانے سے تکلیف پہنچی ہے وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ۔اور پانی کے بغیر میرے لئے کوئی چارہ نہیں۔اب اگر وہ اس کے ہاتھ پکڑیں تو اس کو بھی بچالیں اور اپنے طرفه ٢٤٩٣۔آپ کو بھی بچالیں اور اگر اس کو چھوڑ دیں تو اس کو بھی ہلاک کریں گے اور اپنے آپ کو بھی۔٢٦٨٧: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۶۸ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی کہ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ انہوں نے کہا: خارجہ بن زید انصاری نے مجھ سے أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ بیان کیا کہ حضرت ام علاء جو انصاری عورتوں میں النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ے ایک خاتون تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر چکی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ جب انصار نے مہاجرین کے رہنے کے لئے قرعے ڈالے، حضرت عثمان بن مظعون کا قرعہ سکونت کا ہمارے نام نکلا۔حضرت ام علامہ کہتی تھیں کہ حضرت عثمان بن مظعون أَنْ عُثْمَانَ بْنَ مَطْعُوْنٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ السكْنَى حِيْنَ أَقْرَعَتِ الْأَنْصَارُ سُكْنَى الْمُهَاجِرِيْنَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطْعُوْنٍ ہمارے پاس رہے۔وہ بیمار ہوئے تو ہم نے ان کی فَاشْتَكَى فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ خدمت کی اور جب وہ فوت ہو گئے اور ہم نے انہیں وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ ان کے کپڑوں میں ہی کفنایا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: ہمارے پاس آئے۔میں نے کہا: اللہ کی رحمت ہو تم پر رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ ابو سائب۔میری شہادت تو تمہارے متعلق یہی ہے ابوسا فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ الله کہ اللہ نے تجھے ضرور عزت بخشی ہے۔نبی صلی اللہ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا۔تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وَمَا يُدْرِيْكِ أَنَّ اللهَ أَكْرَمَهُ؟ فَقُلْتُ: لَا اللہ تعالیٰ نے اسے ضرور عزت بخشی ہے؟ میں نے کہا: