صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 757 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 757

صحيح البخاری جلد ۴ ۷۵۷ ۵۲ - كتاب الشهادات شریح نخعی اور اوزاعی رحمۃ اللہ علیہم نے اس میں سفر کی حالت کا استثناء کیا ہے، جو بحالت مجبوری از روئے نص صریح جائز ہے۔ تیسرا مذہب حسن بصری، ابن ابی لیلی ، لیٹ اور اسحاق رحمہم اللہ علیہم کا ہے کہ اہل مذاہب کی ایک دوسرے کے خلاف شہادت قابل اعتماد نہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُوْنَ ( المائدہ: ۱۵) اور ہم نے ان میں قیامت کے روز تک عداوت اور بغض ڈال دیا ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ انہیں اس پر جلدی آگاہ کرے گا ۔ اہل مذاہب کا ایک دوسرے کے خلاف شدید تعصب ایک ظاہر بات ہے۔ اس لئے مؤخر الذکر فقہاء نے ایک مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی آپس میں شہادت تو قابل قبول قرار دی ہے لیکن دوسرے مذہب والوں کے خلاف شہادت محفوظ نہیں قرار دی ہے کہ ایسی شہادت قبول نہ کی جائے۔ جیسا که رشتہ داروں کی شہادت ایک دوسرے کے حق میں قابل قبول نہیں ہوتی ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۵۹،۳۵۸) (عمدۃ القاری جزء ۳۰ صفحه ۲۶۰) (بداية المجتهد، كتاب الأقضية، الباب الثالث الفصل الأول في الشهادة، جزء ثانی صفحه ۳۴۷) عامر بن شراحیل شعبی کا حوالہ ابن ابی شیبہ ہم نے نقد کا حوالہ ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی محولہ بالا روایت کیلئے کتاب التفسير، ا تفسير سورة البقرة باب اا، روایت نمبر ۴۴۸۵ دیکھئے ۔ اہل کتاب کے بارے میں جمہور کے فتووں کی بناء حضرت ابو ہریرہ کی یہی حدیث ہے کہ جن باتوں کے علم حاصل کرنے کا ذریعہ سوائے اقوال اہل کتاب کے اور کچھ نہ ہو تو خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔ روایت زیر باب میں اہل کتاب کا بڑا نقص جو انہیں بحیثیت قوم نا قابل اعتماد بناتا ہے وہ تحریف کتب مقدسہ ہے۔ جو شخص کتاب الہی میں تغیر و تبدل کرتا ہے اس کے اقوال کا اعتبار کرنا احساسات کے خلاف ہے۔ عنوان باب سے ظاہر ہے کہ کسی مسئلہ کی تحقیق ایسے لوگوں سے کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اور ذرائع اختیار کرنے مناسب ہیں۔ باب ٣٠ : الْقُرْعَةُ فِي الْمُشْكِلَاتِ مشکلات میں قرعہ ڈالنا وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ اِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ اور الله عز وجل کا یہ فرمانا: جب وہ اپنی قلمیں ڈال أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ (آل عمران : ٤٥) رہے تھے کہ اُن میں سے کون مریم کا کفیل ہوگا۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اقْتَرَعُوْا فَجَرَتِ اور حضرت ابن عباس نے کہا: ان لوگوں نے قرعہ ڈالا تو الْأَقْلَامُ مَعَ الْجِرْيَةِ وَعَالَ قَلَمُ زَكَرِيَّاءَ قلمیں پانی کے بہاؤ پر بہنے لگیں اور ذکر یا کا قلم اس بہاؤ الْجِرْيَةَ فَكَفَلَهَا زَكَرِيَّاءُ۔ سے او پر آگیا۔ اس لئے زکریا مریم کے کفیل ہوئے۔ کے مصنف ابن ابي شيبة، كتاب البيوع والأقضية، باب من قال لا تجوز شهادة ملة الا على ملتها، جز ۴۶ صفحه ۵۳۲)