صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 756
صحيح البخاری جلدم ۷۵۶ ۵۲ - كتاب الشهادات ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ { بْنِ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن ( بن عبداللہ ) بن عقبہ سے، انہوں نے حضرت عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: يَا مَعْشَرَ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں الْمُسْلِمِيْنَ كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت ! تم اہل کتاب سے کیسے پوچھتے ہو حالانکہ تمہاری وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ الْكِتَابِ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى نے بی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے۔اللہ کی نسبت نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ خبر دینے والی جتنی کتابیں ہیں ان سب سے نئی کتاب الْأَخْبَارِ بِاللَّهِ تَقْرَءُوْنَهُ لَمْ يُشَبْ ؟ وَقَدْ ہے۔تم اسے پڑھتے رہو۔اس میں کچھ خلط ملط نہیں حَدَّثَكُمُ اللهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا مَا ہوا اور اللہ تمہیں بتلا چکا ہے کہ اہل کتاب نے جو اللہ كَتَبَ اللهُ وَغَيَّرُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ نے فرض کیا تھا، اسے بدل دیا ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب کو کچھ اور کا اور بنادیا ہے۔اور انہوں نے کہا کہ یہ بھی جو انہوں نے خود لکھا تھا اللہ ہی کی طرف سے ہے، تا اس کے ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ؟ حاصل کریں۔کیا وہ علم جو تمہارے پاس آیا ہے پوچھنے وَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا قَطُّ کی تہیں ممانعت نہیں کرتا۔خبردار! ایسانہ کرو۔بخدا ہم يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ۔نے تو ان میں سے کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا کہ جو تم سے اس (وحی ) کی بابت پوچھتا ہو جو تم پر نازل کی گئی ہے۔فَقَالُوْا : هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا (البقرة: ٨٠) أَفَلَا يَنْهَاكُمْ اطرافه ١٣٦٣، ٧٥٢٢، ٧٥٢٣۔تشريح : لَا يُسْتَلُ أَهْلُ الشِّرْكِ عَنِ الشَّهَادَة : آیا کناری شہادت قابل اعتبار ہے؟ اس بار میں تین قول ہیں۔جمہور کے نزدیک تو مشرکین کی شہادت قطعی طور پر نا قابل اعتبار ہے۔بعض فقہاء تابعین نے ان کی شہادت اگر شروط عدالت پوری کرتی ہو، علی الاطلاق قبول کرنے کا فتویٰ دیا ہے۔ابراہیم نفی بھی اسی گروہ میں سے ہیں۔ان کی رائے ہے کہ اگر مشرک یا اہل کتاب میں سے کوئی شخص مسلمان کے حق میں شہادت دے اور اپنے ہم مذہب لوگوں کی طرف داری نہ کرتا ہو تو اس کا اعتبار کیا جائے گا۔اسی طرح ان کی آپس میں شہادت بھی قابل قبول ہوگی۔یہی مذہب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے کہ غیر مسلموں کی شہادت ایک دوسرے سے متعلق قابل قبول ہوگی۔امام ابوحنیفہ، کا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۳۵۸)