صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 755
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۵۵ ۵۲ - كتاب الشهادات یہاں ذکر ہوا ہے وہ ابوالعاص بن ربیع ہیں جو آپ کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے خاوند تھے۔ اس تعلق میں كتاب الشروط، باب بھی دیکھئے ۔ امام بخاری نے مذکورہ بالا حوالہ جات کے آخر میں حضرت سمرہ بن جندب کا فتویٰ نقل کر کے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے کہ ایفائے وعدہ سے متعلق متنازعہ فیہ جھگڑے میں خود وعدہ بھی شہادت کا قائم مقام تھا اور اس وجہ سے کتاب الشهادات میں اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ خواہ مندوب ہو یا واجب ہو، دونوں صورتوں میں پورا کرنا ضروری ہے اور اس تعلق میں چار حدیثیں نقل کی گئی ہیں۔ پہلی کے لئے باب كيف بدء الوحي ، روایت نمبرے دیکھئے ، جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق دشمن کی شہادت کا ذکر ہے کہ آپ صادق القول ہیں اور وعدہ خلافی نہیں کرتے ۔ دوسری روایت کے لئے کتاب الإيمان، باب ۲۴، روایت نمبر ۳۳ دیکھئے ۔ تیسری کے لئے کتاب الكفالة باب ۳ روایت نمبر ۲۲۹۶ دیکھئے۔ چوتھی روایت حضرت ابن عباس کی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اختیار تھا کہ آٹھ یا دس سال خدمت کریں اور اپنے وعدہ سے سبکدوش ہو جائیں ۔ مگر انہوں نے بہتر صورت اختیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت تھی۔ (دیکھئے روایت نمبر ۲۶۸۴) اور آپ کے اسی اہتمام کے پیش نظر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آپ کی وفات کے بعد اعلان کرنا پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کسی سے کوئی وعدہ کیا ہو وہ ہمیں اطلاع دے، آپ کا وعدہ پورا کیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ سورة القصص آیات ۲۴ تا ۳۰ میں دیکھئے۔ بَاب ۲۹ : لَا يُسْأَلُ أَهْلُ الشِّرْكِ عَنِ الشَّهَادَةِ وَغَيْرِهَا شہادت وغیرہ کے بارے میں مشرکوں سے نہ پوچھا جائے وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ أَهْلِ اور شعبی نے کہا: مذہب والوں کی گواہی ایک دوسرے الْمِلَلِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ لِقَوْلِهِ کے خلاف درست نہیں۔ کیونکہ اللہ عزوجا ۔ کیونکہ اللہ عز وجل فرماتا ہے : عَزَّ وَجَلَّ: فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور نفرت ڈال دی ہے۔ وَالْبَغْضَاء (المائدة: ١٥) وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اور حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ کہ آپ نے فرمایا: ) اہل کتاب کی نہ تصدیق کرونہ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَ قُوْلُوْا : أَمَنَا تكذیب، اور یوں کہو: ہم اللہ پر اور جو اللہ کی طرف بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ (البقرة: ۱۳۷) الْآيَةَ سے ) اُتارا گیا ہے، اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ٢٦٨٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۶۸۵: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے،