صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 754
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۵۴ ۵۲ - كتاب الشهادات حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ عَنْ سَالِمٍ شجاع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سالم ( بن عجلان) الْأَفْطَسِ عَنْ سَعِيْدِ بْن جُبَيْرٍ قَالَ: افطس سے سالم نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ سَأَلَنِي يَهُودِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْحِيْرَةِ : أَيَّ انہوں نے کہا: اہل حیرہ میں سے ایک یہودی نے مجھے الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوْسَی؟ قُلْتُ: لَا سے پوچھا: حضرت موسی نے ان دو میعادوں میں سے أَدْرِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى حَبْرِ الْعَرَبِ كون کی میعاد پوری کی تھی؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔میں عرب کے کسی عالم کے پاس جا کر جب فَأَسْأَلَهُ۔فَقَدِمْتُ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تک پوچھ نہ لوں۔چنانچہ میں آیا اور حضرت ابن عباس فَقَالَ: قَضَى أَكْثَرَهُمَا وَأَطْيَبَهُمَا إِنَّ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت موسی نے ان میں رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سے جو زیادہ سے زیادہ اور نہایت پسندیدہ میعاد تھی، وہ پوری کی۔اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کہتا ہے، قَالَ فَعَلَ۔تشریح: وہ پورا کرتا ہے۔مَنْ أَمَرَ بِاِنْجَازِ الْوَعْدِ : امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر وعدہ کسی معین سبب سے کیا گیا ہو تو اسے پورا کرنا واجب ہے ورنہ مطلق کا ایفاء حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ہر حالت میں ایفائے وعدہ واجب نہیں بلکہ مستحب ومندوب ہے۔اگر کسی سے کہا جائے شادی کرو میں تمہیں مال دے دوں گا اور وہ شادی کر لیتا ہے تو ایسی صورت میں ایفائے وعدہ واجب ہے اور قرآن مجید کی آیت كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللهِ اَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:۴) سے اس بارہ میں استدلال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی ناراضگی کا موجب ہے کہ جو بات کہی جائے اس کے مطابق عمل نہ ہو۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۵۶) ایفائے وعدہ کے وجوب و عدم وجوب کا اختلاف مدنظر رکھتے ہوئے یہ باب قائم کیا گیا ہے اور عنوان باب میں دو حوالے دیئے گئے ہیں۔ایک حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا اور دوسرا سعید بن عمرو بن اشوع قاضی کوفہ کا۔ان دونوں حوالوں کا تعلق قضائی فیصلہ سے ہے کہ ان کے پاس عدم ایفائے وعدہ کا مقدمہ پیش ہوا اور انہوں نے وعدہ پورا کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔ان دونوں حوالوں کے درمیان قرآن مجید کی آیت وَاذْكُرُ فِي الْكِتَابِ اِسْمعِيْلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا (مریم: ۵۵) کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں صدق وعدہ کی بنا پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تعریف کی گئی ہے۔قاضی سعید نے اپنے فیصلہ میں حضرت سمرہ بن جندب کے فتویٰ کا حوالہ دیا۔اُن کا یہ فتویٰ اسحاق بن راہویہ نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔یہ مشہور قاضی ہیں جو خالد قسری کے عہد امارت میں تھے۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۵۶، ۳۵۷) (عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحه ۲۵۸) تیسرا حوالہ حضرت مسور بن مخرمہ کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس داماد کا