صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 751 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 751

صحيح البخاري - جلد ۴ ۷۵۱ ۵۲- كتاب الشهادات عَنْ زَيْنَبَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے زینب سے، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زینب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی قَالَ: إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو تم میرے پاس صلى الله جھگڑے کا فیصلہ کرانے آتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں زیادہ فصیح ہو۔ سو قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيْهِ شَيْئًا بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا جس شخص کے لئے میں اس کی بات سے متاثر ہو کر أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلَا يَأْخُذْهَا ۔ اس کے بھائی کے حق سے کچھ دلانے کا فیصلہ کردوں تو وہ نہ لے، کیونکہ میں تو صرف اس کیلئے اس حالت میں ایک آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔ اطرافه: ٢٤٥٨، 6967، 7169، 7181، 7185۔ المدعا تشريح : مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ بَعْدَ الْيَمِينِ : ان الی الی رحمةاللہ علیہ کے نزدیک مد عاعلی کی ستم کے بعد دی کی شہادت قابل قبول نہیں کیونکہ قسم کھا کر مدعا علیہ آزاد ہو چکا ہے۔ لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور کہتے ہیں کہ فیصلہ کا دارو مدار شہادت پر ہے۔ مدعی کو فیصلہ کے بعد اگر واضح شہادت مل جائے تو وہ پیش کی جاسکتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۵۴) حدیث زیر باب اس بارہ میں واضح ہے کہ فصاحت و بلاغت سے مدعی اپنے حق میں فیصلہ کر اسکتا ہے۔ مگر اس سے حرام حلال اور نا جائز جائز نہیں ہو سکتا۔ ایسا فیصلہ تو آگ کا کام دے گا۔ اس تعلق میں كتاب الأحكام باب ۲۹ روایت نمبر ۱ ۱۸ے بھی دیکھئے۔ باب ۲۸ : مَنْ أَمَرَ بِإِنْجَازِ الْوَعْدِ جس نے وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا وَفَعَلَهُ الْحَسَنُ وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اور حسن بصری ) نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ (اور اللہ تعالیٰ اسْمَعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ۔ کا یہ فرمانا) اور یاد کر کتاب میں اسماعیل کا ذکر کہ وہ (مريم: ٥٥) وَقَضَى ابْنُ الْأَشْوَعِ وعدہ کے کے سچے تھے۔ اور ابن اشوع نے وعدہ پورا بِالْوَعْدِ وَذَكَرَ ذَلِكَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ کرنے کا فیصلہ کیا اور حضرت سمرہ بن جندب کی بابت جُنْدُبٍ ۔ روایت کرتے ہوئے ایسا ہی بیان کیا۔