صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 750 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 750

صحيح البخاری جلدم ۷۵۰ ۵۲ - كتاب الشهادات نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نے حضرت عبداللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھانی ہو تو كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ چاہیے کہ وہ اللہ کی قسم کھائے یا چُپ رہے۔اطرافه: ٣٨٣٦، ٦١٠٨، ٦٦٤٦، ٠٦٦٤٨ تشریح: كَيْفَ يُسْتَخْلَفُ : الفاظ قسم کیا ہوں۔اس کا جواب عنوان باب میں آیت کے حوالہ سے دیا گیا ہے۔وَلَا يُخلَفَ بِغَيْرِ اللهِ کہ سوائے اللہ کی ذات کے اور کسی کی قسم نہ کھائی جائے۔جیسا کہ عام عادت ہے کہ اپنی یا مخاطب وغیرہ کی جان یا عزت کی قسم کھائی جاتی ہے، یہ جائز نہیں۔قرآن مجید کی محولہ بالا آیت یہ ہے: فَكَيْف إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءَ وَكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا۔(النساء : ۶۳) پھر یہ کیوں ہوتا ہے کہ جب ان کے افعال کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ ( گھبرا کر ) تیرے پاس آتے ہیں، قسمیں کھانے لگتے ہیں۔کہتے ہیں: اللہ کی قسم ہم نے تو نیک سلوک اور مصالحت ہی کا ارادہ کیا تھا۔عربی زبان میں قسم کے لئے حروف ب، ت، و استعمال ہوتے ہیں۔کہتے ہیں: باللهِ، تَاللهِ، وَاللهِ۔باب کی پہلی روایت میں واللہ کہہ کر بدوی نے عہد کیا ہے۔اس روایت کے لئے کتاب الایمان باب ۳۴ روایت نمبر ۴۶ بھی دیکھئے۔مندرجہ بالا دونوں روایتوں کا حاصل یہی ہے کہ غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے اور الفاظ زیادہ نہ ہوں۔صداقت میں طول کلام سے فرق نہیں پڑتا اور نہ لازم ہے کہ زیادہ الفاظ استعمال کر کے قسم کھانے والا جھوٹ نہ بولے۔بَابِ ۲۷ : مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ بَعْدَ الْيَمِيْنِ جو شخص قسم کھائے جانے کے بعد شہادت پیش کرے وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اور نبی ﷺ نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی لَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ کسی سے اپنی دلیل بیان کرنے میں زیادہ فصیح ہو۔وَقَالَ طَاوُسٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَشُرَيْحَ الْبَيِّنَةُ اور طاؤس، ابراہیم اور شریح نے کہا: معتبر شہادت الْعَادِلَةُ أَحَقُّ مِنَ الْيَمِيْنِ الْفَاجِرَةِ۔جھوٹی قسم کی نسبت زیادہ قابل قبول ہے۔٢٦٨٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۶۸۰: عبداللہ بن مسلمہ قعنبی) نے ہمیں بتایا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے،