صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 748
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۴۸ ۵۲ - كتاب الشهادات الْأَشْعَثُ فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ حضرت اشعث ملے۔انہوں نے پوچھا: آج عبدالله عَبْدُ اللهِ الْيَوْمَ قُلْتُ : كَذَا وَكَذَا۔نے تمہیں کیا بتا یا تھا۔میں نے کہا: یہ یہ باتیں۔تو انہوں نے کہا: میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی۔قَالَ: فِي أُنْزِلَتْ۔اطراف الحديث :۲۶۷۶ ۲۳۵۶ ۲۱٦، ۲۰۱۰، ٢٦٦٦، ٢٦٦٩، ٢٦٧٣، ٤٥٤٩، ٦٦٥٩، ٠٦٦٧٦ ١٨٣، ٧٤٤٥ اطراف الحديث :۲۶۷۷ ،۲۳۵۷ ،٢٤۱۷، ٢٥١٦، ٢٦٦٧، ٢٦٧٠، ٤٥٥٠، ٦٦٦٠، ٦٦٧٧، ٧١٨٤۔تشریح : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيِّنِ كَاذِبًا۔۔۔جھوٹی شہادت اور جھوٹی قسم کے تعلق میں یہ باب بھی ہے۔ابواب ۱۹ ۲۰ کی روایات میں حضرت اشعث بن قیس کا بیان ہے کہ محولہ بالا آیت انہی کے حق میں نازل ہوئی تھی اور یہاں روایت نمبر ۲۶۷۶-۲۶۷۷ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بیان سے پایا جاتا ہے کہ اس کے نزول کا تعلق کسی اور موقع سے ہے۔ان میں تعارض نہیں، کیونکہ نزول سے مراد تطبیق دینا ہے۔اس تعلق میں کتاب المساقاة تشریح باب ۴ و باب ۸ بھی دیکھئے۔باب ٢٦ : كَيْفَ يُسْتَحْلَفُ قسم کیونکر لی جائے؟ قَالَ تَعَالَى يَحْلِفُوْنَ بِاللهِ (التوبة: ٦٢) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ (تمہارے لئے اللہ کی قسمیں وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّوَجَلٌ ثُمَّ جَاءُوكَ کھاتے ہیں اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: پھر وہ تمہارے يَحْلِفُوْنَ بِاللهِ اِنْ اَرَدْنَا إِلَّا اِحْسَانًا پاس آنے لگے اللہ کی قسمیں کھانے کو کہ ہم تو صرف وَتَوْفِيقًا (النساء: ٦٣) يُقَالُ : بِاللهِ وَتَاللهِ یہی چاہتے ہیں کہ بھلائی اور آپس میں ملاپ ہو۔قسم میں یوں کہا جائے باللہ اللہ واللہ۔ووالله وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وہ شخص جو عصر وَرَجُلٌ حَلَفَ بِاللَّهِ كَاذِبًا بَعْدَ الْعَصْرِ کے بعد، جھوٹا ہوتے ہوئے اللہ کی قسم کھائے۔اور وَلَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ۔اللہ کے بغیر کسی اور کی قسم نہ کھائی جائے۔٢٦٧٨: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۲۶۷۸: اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا۔عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَمِّهِ أَبِي انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے اپنے