صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 746 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 746

صحيح البخاری جلدم ۵۲ - كتاب الشهادات مِنْبَرِى هَذَا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ اس مفہوم میں ایک مرفوع روایت حضرت ابوامامہ بن ثعلبہ کی بھی ہے۔یہ انہی روایتوں سے بعض فقہاء نے وجوب کے بارے میں استدلال کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۵۱) باب ٢٤ : إِذَا تَسَارَعَ قَوْمٌ فِي الْيَمِيْنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمِ الْيَمِيْنَ فَأَسْرَعُوْا فَأَمَرَ أَنْ قسم کھانے میں جب کچھ لوگ ایک دوسرے سے پہل کرنا چاہیں ( تو پہلے کس سے قسم لی جائے ؟ ) ٢٦٧٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ۲۶۷۴: اسحاق بن نصر نے مجھے بتایا۔عبدالرزاق حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ہمام سے ، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آدمیوں کو قسم کھانے کے لئے فرمایا تو وہ جلدی کرنے لگے۔آپ نے فرمایا: ان کے درمیان قسم کھانے کے لئے قرعہ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِيْنِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ۔ڈالا جائے کہ کون ان میں سے قسم کھائے۔تشریح: إِذَا تَسَارَعَ قَوْمٌ فِي الْيَمِينِ : یہ باب جھگڑے کی ایک خاص صورت سے متعلق ہے۔ایک جائداد ہے جس کی نسبت دو شخص مدعی ہوں اور ان میں سے کسی فریق کے پاس شہادت نہ ہو اور حلف دونوں پر عائد ہوتا ہو اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہو کہ وہ پہلے قسم کھا کر جائداد تنازعہ فیہ کا قبضہ حاصل کر لے۔ایسی صورت میں بذریعہ قرعہ اندازی فیصلہ ہوگا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۵۲) باب ٢٥ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی اللهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُوليك لا قسموں کے بدلے تھوڑی سی پونچھی لیتے ہیں۔یہی خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا اور اللہ نہ ان اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِمَةِ سے کلام کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان پر نظر وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ڈالے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا۔اور ان کے لیے (آل عمران: ۷۸) درد ناک عذاب ( مقدر) ہے۔} (سنن ابن ماجه، كتاب الأحكام، باب اليمين عند مقاطع الحقوق) (سنن الكبرى للنسائی، کتاب القضاء، باب اليمين على المنبر، جزء۳ صفحه ۴۹۲)