صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 745
صحيح البخاري - جلدم ۷۴۵ ۵۲ - كتاب الشهادات قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ۔فرمایا: جس نے <mark>اس</mark> غرض سے قسم کھائی کہ <mark>اس</mark> کے ذریعے کسی کا مال مارے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ <mark>اس</mark> سے ناراض ہو گا۔اطرافه: ٢٣٥٦، ٢٤١٦، ٢٥١٥، ٢٦٦٦، ٢٦٦٩، ٢٦٧٦، ٤٥٤٩ ٦٦٥٩، ٦٦٧٦ ٧١٨٣، ٧٤٤٥۔۔٤٠٠۔يَحْلِفُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ حَيْثُمَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْيَمِينُ وَلَا يُصْرَفُ مِنْ مَوْضِعٍ: تشریح: احناف اور حنابلہ کے نزدیک موقع محل سے متعلق شہادت میں حلف لینے کی ضرورت ہو تو وہ جائے وقوعہ پر لینی چاہیے۔جمہور کا یہ مذہب ہے کہ مدینہ منورہ میں منبر نبوی کے پ<mark>اس</mark> اور مکہ مکرمہ میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان قسم لی جائے کہ اُن مقامات کے تقدس کا خیال ممکن ہے کہ خوف الہی کا احس<mark>اس</mark> پیدا کرنے کا باعث ہو۔علی ھذا القی<mark>اس</mark>، مساجد بھی ایسی جگہیں ہیں جہاں قسم کھانے والے سے امید کی جاتی ہے کہ خوف الہی سے کام لے گا۔<mark>اس</mark> قسم کی احتیاطی تدبیر اختیار کرنے میں تو کوئی مانع نہیں۔مگر یہ سوال کہ آیا مخصوص جگہ میں قسم اٹھوانا واجب ہے یا غیر واجب؟ عنوان باب سے ظاہر ہے کہ امام بخاری ، احناف اور حنابلہ کی رائے سے متفق ہیں کہ یہ طریق بطور وجوب ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۵۰) حضرت زید بن ثابت کا واقعہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے موطا میں نقل کیا ہے کہ اُن کا عبد اللہ بن مطیع ” سے کسی آمر میں جھگڑا ہوا اور فیصلہ کے لئے مروان بن حکم امیر مدینہ کی طرف رجوع کیا گیا۔انہوں نے چاہا کہ حضرت زید بن ثابت منبر نبوی پر جا کر قسم کھا ئیں۔تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی جگہ پر ہی قسم کھاؤں گا۔مروان نے کہا: لَا وَاللَّهِ إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الحقوق بارے خدایا! وہیں قسم ہوگی جہاں حقوق کا قطعی فیصلہ ہو سکتا ہے۔مگر حضرت زید بن ثابت نے جہاں تھے، وہیں انہوں نے حلفیہ بیان دیا کہ وہ اپنے حق کے مطالبہ میں ر<mark>اس</mark>تی پر ہیں۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت زید بن ثابت کے قول کو مروان بن حکم کے اجتہاد پر ترجیح دی ہے اور <mark>اس</mark> کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مندرجہ زیر باب ۲۰ روایت نمبر ۲۶۶۹-۲۶۷۰ کا حوالہ دیا ہے جس میں جگہ کی تخصیص نہیں۔جھوٹی قسم جہاں بھی کوئی کھائے گا عذاب الہی کا سزاوار ہوگا۔صحاح ستہ میں بعض روایات وارد ہوئی ہیں، جن میں قسم کے لئے جگہ کی تخصیص کا ذکر ہے۔مگر یہ خصیص وجوب کے معنوں میں نہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۵۱، عمدۃ القاری جز ۳۶ صفحه۲۵۲ ۲۵۳، بداية المجتهد، كتاب الأقضية، الباب الثالث الفصل الثانی، جزء ثانی صفحه ۳۵۰،۳۴۹ - مشار الیہا روایات میں سے ایک روایت حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں: قَالَ رَسُولُ اللهِ اللهُ مَنْ حَلَفَ بِيَمِينِ آلِمَةٍ عِندَ موطأ امام مالک، کتاب الأقضية، باب جامع ما جاء في اليمين على المنبر) ☆