صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 744
صحيح البخاری جلدم م نے ۵۲ - كتاب الشهادات تشریح : الْيَمِينُ بَعْدَ الْعَصْرِ : عصر کا وقت جو مقرر کیا گیا ہے اس کا زیادہ تر تعلق نفسیات سے ہے۔زوال کا وقت جھوٹ اور اس کے بد عواقب سے معنوی مناسبت رکھتا ہے۔پاکستان کے قیام سے پہلے کی بات ہے کہ قادیان میں ایک چوری کے الزام میں لالہ رام چند صاحب تھانیدار نے ملزمین کو مہلت دی اور مجھ سے بحیثیت ناظر اُمویہ عامہ امداد طلب کی۔میں نے مولوی نذیر احمد صاحب کا رکن نظارت امور عامہ سے کہا کہ رات کے بارہ بجے میرے مکان پر مشتببین کو لے آئیں اور ایک بڑی طاقت کا بلب بھی بہم پہنچایا جائے۔رات تاریک تھی۔دراصل ملزم جو شدومد سے الزام کا انکار کرتے تھے، رات کی تاریکی اور یکدم روشنی سے ایسے متاثر ہوئے کہ اپنے جرم کا اقرار کر لیا اور مسروقہ زیورات بھی پیش کر دیئے ، جس پر تھانیدار نے چالان مکمل کیا۔غرض حلف کے لئے نماز عصر کے بعد کی تخصیص اس حکمت پر مبنی ہے کہ وقت اور مقام کا تعلق نفسیات سے ہے۔بَاب ۲۳ : يَحْلِفُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ حَيْثُمَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْيَمِيْنُ وَلَا يُصْرَفُ مِنْ مَّوْضِع إِلَى غَيْرِهِ مدعا علیہ جہاں بھی اس پر قسم کھانا ضروری ہو قسم کھائے اور وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ لے جایا جائے قَضَى مَرْوَانُ بِالْيَمِيْنِ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مروان نے حضرت زید بن ثابت کو منبر پر جا کر قسم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي کھانے کا حکم دیا اور حضرت زیڈ نے منبر پر جا کر قتم فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْلِفُ وَأَبَى أَنْ يُخْلِفَ عَلَى کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ میں اپنی جگہ پر ہی قسم الْمِنْبَرِ فَجَعَلَ مَرْوَانُ يَعْجَبُ مِنْهُ۔کھاؤں گا۔اور مروان کو اس بات سے تعجب ہوا۔وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت اشعث سے ) شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِيْنُهُ وَلَمْ يَخُصَّ مَكَانًا فرمایا: تمہارے دو گواہ چاہئیں ورنہ اس سے قسم لی دُونَ مَكَانٍ۔جائے گی۔آپ نے قسم کے لئے ایک جگہ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ کی تخصیص نہیں فرمائی۔٢٦٧٣ : حَدَّثَنَا مُوْسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۲۶۷۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنِ الْأَعْمَشِ که عبد الواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں