صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 743
صحيح البخاری جلد ۴ سم کے ۵۲ - كتاب الشهادات شہادت اطلاق پائے گا لیکن فقہاء کوفہ کی رائے میں حدود میں قسم کے ذریعے فیصلہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح امام مالک نے نکاح و طلاق اور عتاق میں اگر شہادت نہ ہو تو مدعی کی قسم پر فیصلہ جائز قرار نہیں دیا بلکہ اُن میں شہادت ضروری قرار دی ہے۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ دو رائے یہ ہے کہ دو گواہوں کی عدم موجودگی میں مدعی سے قسم لینا جائز ہے۔ ئز ہے۔ تہمت زنا پر ت زنا پر چار گواہ مہیا نہ ہونے کی صورت میں مرد و عورت دونوں سے حلف لیا جائے گا۔ اس قسم کو اصطلاح شریعت میں لعان کہتے ہیں اور اس کے بعد حد قذف جو مرد پر عدم شہادت کی صورت میں جاری ہوئی تھی روک دی جائے گی۔ حوالہ جات کے لیے دیکھئے فتح الباری شرح باب ۲۰ و باب ۲۱ جز ء ۵ صفحه ۳۴۵ تا ۳۴۹ بَاب ۲۲ : الْيَمِينُ بَعْدَ الْعَصْرِ عصر کے بعد قسم کھانا ٢٦٧٢ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۶۷۲ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ جریر بن عبد الحمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ سے، اعمش نے ابو صالح صالح سے، ابو صالح الح نے حضرت أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ہیں جن سے اللہ بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور انہیں دردناک يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عذاب ہوگا: ایک شخص جس جس کے پاس ضرورت سے عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِطَرِيقٍ يَمْنَعُ مِنْهُ زیادہ پانی ہو اور وہ اس سے مسافروں کو محروم کرتا ہے ابْنَ السَّبِيْلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا لَا يُبَايِعُهُ اور وہ شخص جس نے کسی شخص کی بیعت کی اور صرف إِلَّا لِلدُّنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَى لَهُ دنیا ہی کی خاطر بیعت کی۔ اگر اس نے اس کو جو وہ وَإِلَّا لَمْ يَفِ لَهُ۔ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا چاہتا ہے دے دیا تو اس کا وفادار رہا ورنہ اس نے بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ وفاداری نہ کی اور وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی شخص أَعْطَى بِهَا كَذَا وَكَذَا فَأَخَذَهَا ۔ سے کسی سامان کا بھاؤ کیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ اس چیز اطرافه: ٢٣٥٨ ، ٢٣٦٩، ٧٢١٢، ٧٤٤٦۔ کا اتنا معاوضہ ملتا تھا اور لینے والا اس چیز کو لے لے۔