صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 742 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 742

صحيح البخاري - جلد ۴ ۷۴۲ ۵۲- كتاب الشهادات باب ۲۱ : إِذَا ادَّعَى أَوْ قَذَفَ فَلَهُ أَنْ يَلْتَمِسَ الْبَيِّنَةَ وَيَنْطَلِقَ لِطَلَبِ الْبَيِّنَةِ جب کوئی دعوی کرے یا زنا کی تہمت لگائے تو اسے چاہیے کہ گواہی کی جستجو کرے اور گواہی کی تلاش کے لئے چلا جائے ٢٦٧١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۲۶۷۱ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ( محمد ) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام ( بن عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ حسان) سے، انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے عَنْهُمَا : أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلال بن امیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى بیوی پر تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سحماء سے زنا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌ فِي کیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہادت لاؤ ظَهْرِكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے جائیں گے تو اس أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ نے کہا: یا رسول الله ! اگر ہم اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی پر کسی شخص کو دیکھے تو وہ شہادت ڈھونڈنے کے لئے يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ يَقُولُ: الْبَيِّنَةَ چل پڑے؟ تو آپ یہی فرماتے رہے: شہادت لاؤ وَإِلَّا حَدٌ فِي ظَهْرِكَ۔ فَذَكَرَ حَدِيثَ ور نہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے جائیں گے۔ پھر اللعَانِ۔ اطرافه: ٤٧٤٧، ٥٣٠٧ ( حضرت ابن عباس نے ) لعان کی حدیث بیان کی ۔ تشریح : إِذَا ادَّعَى أَوْ قَذَفَ فَلَهُ أَنْ يَلْتَمِسَ الْبَيِّنَةَ وَيَنْطَلِقَ لَطَلَبِ الْبَيِّنَةِ الى دعوى en ہو یا تعزیری دونوں میں افراد کو حق نہیں دیا گیا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں بلکہ ان کا فرض ہے کہ دار القضاء کی طرف رجوع کریں اور اس سے متعلق واضح شہادت بہم پہنچائیں۔ ان میں سے کسی فرد کا دعوی کہ اس نے اپنے گھر میں بچشم خود ارتکاب جرم دیکھا ہے، قطعاً قابل قبول نہیں بلکہ تہمت زنا کی صورت میں تو مستغیث قابل سزا ہو گا؟ اگر مطلوبہ شہادت پیش نہ کر سکے یا خود انتقام لے لے۔ مسئلہ معنونہ سے متعلق فقہاء کے درمیان دو اختلاف ہیں جس کی وجہ سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ امام شافعی ، امام احمد بن حنبل کے نزدیک مالی اور تعزیری معاملات پر مذکورہ بالا قانون