صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 741
صحيح البخاری جلدم ام کے ۵۲ - كتاب الشهادات عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ جو انہوں نے کہا تھا، بتایا۔انہوں نے کہا: بیچ کہا ہے۔فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي۔میرے ہی متعلق یہ آیت نازل کی گئی تھی۔میرے اور ایک شخص کے درمیان کسی چیز کی بابت جھگڑا تھا تو ہم فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَسُول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کے لئے گئے۔آپ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا نے مجھ سے فرمایا: تمہارے دو گواہ چاہئیں ورنہ اس سے نے مجھ وَهُوَ فِيْهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ قسم لی جائے گی۔میں نے آپ سے کہا: تب تو یہ قسم غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللهُ تَصْدِيْقَ ذَلكَ کھالے گا اور کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اس لئے قسم کھائی کہ وہ اس کے ذریعے کسی مال کو اپنا بنا لے اور اس قسم میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ۔ہے اور انہوں نے یہ آیت پڑھی۔اطراف الحدیث :۲۶۶۹: ۲۳۵۶، ٢٤١٦، ٢٥١٥، ٢٦٦٦، ٢٦٧٣، ٢٦٧٦، ٤٥٤٩، ٦٦٥٩، ٠٦٦٧٦ ٠٧١٨٣ ٠٧٤٤٥ اطراف الحدیث ۲۶۷۰ ،۲۳۵۷، ٢٤۱۷، ٢٥١٦، ٢٦٦٧، ٢٦٧٧، ٤٥٥٠، ٦٦٦٠، ٦٦٧، ٧١٨٤۔تشریح : الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فِي الْأَمْوَالِ وَالْحُدُودِ: قانون دانوں نے خلاف ورزی احکام کی دو قسمیں تجویز کی ہیں۔ایک قسم کا تعلق مالی حقوق کے نقصان سے ہے اور دوسری کا جسم و جان کے نقصان سے، اور اس اعتبار سے عدالتی کاروائی سے ضابطہ قواعد کی بھی دو قسمیں ہیں۔ایک کا نام قانون بدنی اور دوسرے کا نام قانون تعزیری۔اسلامی فقہاء نے ان دونوں ضابطوں کے لئے حقوق اور حدود کی اصطلاحیں استعمال کی ہیں اور ان سے متعلقہ احکام کی خلاف ورزی پر جو دعوے اور قضیئے پیدا ہوں، ان میں قانون شہادت ایک ہی ہے۔کم از کم دو گواہ لاؤ ورنہ مدعا علیہ کو تم دی جائے گی۔یہ مضمون ہے عنوان باب کا۔الفاظ شَاهِدَاكَ اَوْ يَمِينُهُ کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۲۶۷۰۔جہاں حضرت اشعث بن قیس کی روایت سے یہ الفاظ منقول ہیں۔الزام زنا کے ثبوت میں شہادت کا قانون الگ ہے جو آگے بیان ہوگا۔