صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 740
صحيح البخاری جلدم ۷۴۰ ۵۲ - كتاب الشهادات شَاهِدٍ وَيَمِيْنِ الْمُدَّعِي فَمَا تَحْتَاجُ نے کہا: اگر ایک گواہ کی گواہی اور مدعی کی قسم کافی سمجھی أَنْ تُذَكَّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى مَا جاتی تو کیا ضرورت تھی کہ ایک دوسری کو یاد دلا دے۔كَانَ يَصْنَعُ بِذِكْرِ هَذِهِ الْأُخْرَى؟ ایک کا دوسری کو یاد دلانے سے بنتا ہی کیا ہے؟ ٢٦٦٨ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۲۶۶۸: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت كَتَبَ ابْنُ عَبَّاس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَيَّ کی۔انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ ) بن عباس إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بِالْيَمِيْنِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ۔مدعلی علیہ کو تم دلانے کا حکم دیا ہے۔اطرافه: ٢٥١٤، ٤٥٥٢ ٢٦٦٩ - ٢٦٧٠: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ۲۶۶۹-۲۶۷۰: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ منصور نے ابووائل سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ يَسْتَحِقُ بِهَا مَالًا لَقِيَ حضرت عبداللہ بن مسعود ) کہتے تھے: جس نے اس اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ غرض سے تم کھائی کہ مال اس کا ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ تَصْدِيْقَ ذَلِكَ : اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ سے ایسی حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے بِعَهْدِ اللهِ وَاَيْمَانِهِمْ إِلَى عَذَابٌ اَلِيْم ناراض ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ نے اس بارہ میں یہ آیت (ال عمران: ۷۸) ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ نازل کی ہے: { یقیناً وہ لوگ جو اللہ کے عہدوں اور قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ قسموں کو معمولی قیمت میں بیچ دیتے ہیں۔اوران أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ کے لیے درد ناک عذاب (مقدر) ہے۔پھر اس کے فَقَالَ: صَدَقَ لَفِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بَيْنِي بعد حضرت اشعث بن قیس (اپنے گھر سے باہر ہمارے وَبَيْنَ رَجُلٍ حُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ پاس آئے اور انہوں نے پوچھا: ابو عبد الرحمن (حضرت ابوعبدالرحمن فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عبدالله بن مسعود ) تمہیں کیا بتا رہے تھے؟ ہم نے انہیں