صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 739
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۳۹ ۵۲ - كتاب الشهادات أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ کی گئی ہے۔ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہیں ان کا کھانا گویا آگ نگلنا ہے۔ وہ نہ دنیا میں راحت کا موجب ہوگا نہ آخرت میں ۔ یہ وہ تقدیر الہی ہے جو شریعت کی حدود توڑنے پر نازل ہوئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ کشتی نوح میں جماعت کو پابندی شریعت سے متعلق نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر شریعت کا قانون تمہارے لئے قابل برداشت نہیں تو بذریعہ دعا قضا و قدر کے قانون سے فائدہ اُٹھاؤ۔ کیونکہ قضا و قدر کا قانون شریعت کے قانون پر بھی غالب آجاتا ہے۔ تقویٰ اختیار کرو۔ (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۱ ) اگر جھوٹی قسم سے مدعا علیہ حرام کھاتا ہے تو تقدیر اپنا کام کرے گی۔ قَالَ فَانْزَلَ اللهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ ۔۔۔۔۔ فَانْزَلَ الله سے مراد جیسا کہ بار بار بتایا جا چکا ہے تطبیق آیت ہے ؛ نہ کہ مشار الیہ موقع پر نزول آیت۔ بَاب ۲۰ : الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فِي الْأَمْوَالِ وَالْحُدُودِ مالی مقدمات اور اُن جرموں میں جن پر بدنی سزائیں عائد ہوتی ہیں قسم مدعا علیہ کے ذمہ ہے وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دو گواہ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ۔ وَقَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا چاہیں یا اس سے قسم لی جائے گی۔ اور قتیبہ نے کہا: سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ كَلَّمَنِي سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبُو الزِّنَادِ فِي شَهَادَةِ الشَّاهِدِ ابن شبرمہ سے روایت کی کہ ابوالزناد نے ( جو مدینہ وَيَمِيْنِ الْمُدَّعِي فَقُلْتُ قَالَ اللہ کے قاضی تھے ) ایک گواہ کی گواہی اور مدعی کی قسم پر تَعَالَى وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ فیصلہ کرنے کے بارے میں مجھ سے بات کی۔ میں رِجَالِكُمْ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : تم اپنے مردوں میں فَرَجُلٌ وَامْرَأَتُنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ سے دو گواہ ٹھہرالو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكَّرَ اور دو عورتیں، ایسے لوگوں میں سے جنہیں تم بطور گواہ احْدُهُمَا الْأُخْرَى (البقرة: ۲۸۳) پسند کرتے ہو۔ دو عورتیں اس لئے کہ اگر ان میں سے قُلْتُ: إِذَا كَانَ يُكْتَفَى بِشَهَادَةِ ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ میں