صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 738
صحيح البخاري - جلدم ۷۳۸ ۵۲ - كتاب الشهادات لَا رسول قَالَ: فَقَالَ لِلْيَهُودِي احْلِفْ پیش کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے پوچھا: کیا قَالَ: قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ إِذَنْ يَحْلِفُ تمہارے پاس کوئی شہادت ہے؟ کہتے تھے: میں نے وَيَذْهَبُ بِمَالِي قَالَ: فَأَنْزَلَ الله کہا نہیں۔انہوں نے کہا: تب آپ نے اس یہودی تَعَالَى : إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سے کہا قسم کھاؤ۔کہتے تھے میں نے کہا: یا رسول اللہ! وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا (آل عمران: ۷۸) یہ تو قسم کھا کر میرا مال اُڑا لے جائے گا۔(حضرت اشعث ) کہتے تھے: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وحی إِلَى آخِرِ الْآيَةِ۔کی : وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی پونجی خریدتے ہیں۔۔۔اطراف الحدیث ۲۶۶۶ ٢٣٥٦ ٢٤١٦ ٢٥١٥، ٢٦٦٩، ٢٦٧٣، ٢٦٧٦، ٤٥٤٩، ٦٦٥٩، ٠٦٦٧٦ ٧٤٤٥،٧١٨٣ اطراف الحدیث ۷ ۲۶۶ ،۲۳۵۷، ٢٤۱۷، ٢٥١٦، ٢٦٧٠، ٢٦٧٧، ٤٥٥٠، ٦٦٦٠، ٦٦٧۹۷، ٧١٨٤۔تشریح : سؤالُ الْحَاكِمِ الْمُدَّعِيَ هَلْ لَكَ بَيْنَةٌ قَبْلَ الْيَمِينِ : دار القضاء سے متعلقہ احکام تحقیق میں سے پہلا حکم یہی ہے کہ قاضی مدعی یا مستغیث سے شہادت کا مطالبہ کرے اور شہادت کی عدم موجودگی میں مدعا علیہ کو تم دی جائے۔ایسی صورت میں مدعی کو شبہ پیدا ہونا طبعی امر ہے کہ مبادا مد عاعلیہ جھوٹی قسم کھالے جیسا کہ حضرت اشعث بن قیس کو یہودی مدعا علیہ کی نسبت پیدا ہوا۔محض اسی شبہ سے قاضی قواعد عدالت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔قواعد شریعت کی پابندی بہر حال ضروری ہے کیونکہ جزا سزا کا سلسلہ صرف حدود دشریعت تک ہی ختم نہیں ہو جا تا بلکہ اس کے بعد قضاء وقدر کا سلسلہ بھی چلتا ہے جس کی طرف بحوالہ آیت اشارہ کیا گیا ہے، پوری آیت یہ ہے: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَايْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ( آل عمران : ۷۸ ) جولوگ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور روز قیامت اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے۔لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ : شدت ناراضگی میں انسان نہ ہم کلام ہوتا ہے اور نہ دیکھتا ہے۔آنحضرت کے الفاظ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ کی تشریح محولہ بالا آیت سے کی گئی ہے۔لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ سے یہ مراد بھی ہے کہ اس دنیا میں بھی انجام کار جھوٹ سے حاصل کیا ہوا مال نفع بخش نہیں ہوگا۔ثَمَنًا قَلِيلًا ( تھوڑے مال) سے مراد نا پاکدار اور انجام کار نقصان والا دنیاوی نفع ہے۔جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۵ میں ثَمَنًا قَلِيلًا کی تشریح بالفاظ