صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 737 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 737

صحيح البخاری جلد ۴ ۷۳۷ ۵۲ - كتاب الشهادات لَمْ يَحِضُنَ (الطلاق: ۵) یعنی وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کی عدت کی نسبت تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اسی طرح ان کی بھی جنہیں (بوجہ بیماری ( حیض نہ آئے ۔ حوالہ جات کی تفصیل کے لئے فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۴۲٬۳۴۱ نیز عمدۃ القاری جز ۱۳۶ صفحہ ۲۴۰،۲۳۹ دیکھئے۔ زیر باب دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمر کی جس میں بلوغت کی حد پندرہ سال بتائی گئی ہے اور دوسری حضرت ابوسعید خدری کی جس میں شرعی احکام پر عمل کرنے کے لئے حالت احتلام ، بلوغت کی علامت قرار دی ہے۔ پہلی روایت میں بلوغت کی عمر جنگی قابلیت کے لحاظ سے کم از کم پندرہ سال مذکور ہے اور دوسری روایت میں احکام شریعت کی پابندی کا ذکر ہے۔ عنوان باب میں مردوں اور عورتوں کی بلوغت کا مسئلہ پیش کر کے معین عمر بلوغت کو سالوں کی قید وحد بندی سے آزاد رکھا ہے کہ اس کا تعلق مختلف ملکوں کے مخصوص اقلیمی اور قومی حالات سے ہے۔ بَاب ۱۹ : سُؤَالُ الْحَاكِمِ الْمُدَّعِيَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟ قَبْلَ الْيَمِينِ حاکم کا ( مدعا علیہ کو) قسم دلانے سے پہلے مدعی سے یہ پوچھنا کہ کیا تمہارے پاس کوئی شہادت ہے؟ ٢٦٦٦-٢٦٦٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ۲٦٦٦-۲۶۶۷: محمد بن سلام) نے ہم سے أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ بیان کیا کہ ابو معاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ہے ، اعمش نے شقیق سے شقیق نے حضرت عبداللہ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ کہتے تھے: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنٍ وَهُوَ فِيْهَا فَاجِرٌ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ الله لئے قسم کھائی کہ وہ کسی مسلمان آدمی کے مال سے کچھ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَقَالَ الْأَشْعَثُ لے لے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو تو اللہ سے ایسی ابْنُ قَيْسٍ: فِيَّ وَاللهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے نا خوش ہوگا۔ (شقیق) بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضُ کہتے تھے کہ حضرت اشعث بن قیس (یہ سن کر ) بولے: فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ یہ تو بخدا میرے ہی متعلق تھا۔ میرے اور ایک یہودی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّی کے درمیان ایک مشترکہ زمین تھی ۔ اس نے میرے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قَالَ : قُلْتُ : حصہ کا انکار کر دیا۔ میں نے اُسے نبی ﷺ کے سامنے