صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 736 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 736

صحيح البخاری جلدم ۵۲ - كتاب الشهادات ٢٦٦٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۲۶۶۵ علی بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔(انہوں حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ نے کہا: ) ہم سے سفیان بن عیینہ ) نے بیان کیا کہ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ صفوان بن سلیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عطاء بن یسار الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ سے، عطاء نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ النَّبِيَّ سے روایت کی۔یہ اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غُسْلُ يَوْمِ تک پہنچاتے تھے۔آپ نے فرمایا: جمعہ کے دن نہانا الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِم۔ہر ایک بالغ پر واجب ہے۔اطرافه ۸۵۸، ۸۷۹، ۸۸۰، ۸۹۰ ریح: بُلُوعُ الصَّبْيَان وَشَهَادَتُهُمُ : جمہور کے نزدیک بچوں کی شہادت عدالتی کاروائی کے لئے قابل اعتماد نہیں۔امام مالک نے جرح میں ان کا بیان قابل اعتبار گردانا ہے۔ان کے منتشر ہو جانے سے قبل قلمبند کر لیا جائے۔ان کو ایک دوسرے سے بات کرنے کا موقع نہ ملے۔جمہور نے بھی ان کی اطلاعات کو اس صورت میں وقعت دی ہے کہ قرائن سے ان کے بیان کی تائید ہوتی ہے۔فقہاء نے بچوں کو بلوغت پر مکلف شریعت قرار دیا ہے۔ان کا استدلال آیت محولہ بالا سے ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَإِذَا بَلَغَ الْأطْفَالُ مِنكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ آيَاتِهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (النور:٢٠) اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو اسی طرح وہ اندر آنے کی اجازت لیا کریں، جس طرح ان سے پہلوں (یعنی بڑے لوگوں ) نے اجازت لی اللہ تعالیٰ اپنے احکام تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ تعالی علیم حکیم ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۴۱) بلوغت کی حد کیا ہے؟ عنوان باب میں مغیرہ بن منقسیم نبی کوفی" کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ کم از کم عمر بارہ سال ہے اور حضرت ابن عمر کی روایت سے ظاہر ہے کہ زیادہ سے زیادہ پندرہ سال۔حسن بن صالح ہمدانی ( فقیہ کوفہ ) نے ایک خاتون کے اکیس سال کی عمر میں دادی یا نانی بن جانے کا ذکر کیا ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ایک خاتون دادی ہونے کی حالت میں دیکھی جو نویں سال میں حائضہ ہوئی اور دسویں سال میں بچی پیدا ہوئی جو اسی طرح بالغ ہو کر ماں بنی اور اس کی ماں اکیسویں سال کی تھی۔یہ مثالیں شاذ ہیں۔بلوغت کی حد گرم و سرد علاقوں میں مختلف ہے۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک مرد کے لئے ۱۸، ۱۹ سال اور عورت کے لئے ۱۷ سال حد بلوغت ہے اور جمہور کے نزدیک دونوں کی اوسط حد بلوغت پندرہ سال ہے جس میں وہ مکلف شریعت ہو جاتے ہیں۔اسی اختلاف کے پیش نظر قرآن مجید کی آیت وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ کا حوالہ دے کر حیض بلوغت کی علامت قرار دیا ہے ، خواہ عورت نو سال میں حائضہ ہو یا سترہ اٹھارہ سال میں۔پوری آیت یہ ہے: وَاللَّائِی يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلْقَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي