صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 734 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 734

صحيح البخاری جلدم ۵۲ - كتاب الشهادات بَاب ۱۷ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْإِطْنَابِ فِي الْمَدْحَ وَلْيَقُلْ مَا يَعْلَمُ تعریف میں جو مبالغہ کرنا نا پسندیدہ ہے اور چاہیے کہ اتنا ہی کہے جتنا جانتا ہو ٢٦٦٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ :۲۶۶۳ محمد بن صباح نے ہمیں بتایا۔اسماعیل حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنِي بن زکریا نے ہم سے بیان کیا کہ برید بن عبد اللہ نے بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ مجھے بتایا۔انہوں نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعَ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کسی شخص عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيْهِ فِي مَدْحِهِ فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي کی تعریف کرتے سنا اور وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا: تم نے اس شخص کو ہلاک أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ کر دیا یا فرمایا تم نے اس شخص کی پیٹھ توڑ ڈالی۔طرفه: ٦٠٦٠ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْإِطْنَابِ فِى الْمَدْحِ اطْنَاب ، طنب کے معنی خیمے کی رہی جس سے وہ کیل کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔خیمہ نصب کرتے وقت اس کے تناؤ اور مضبوط ہونے میں رشتے مدد دیتے ہیں۔اسی لفظ سے افعل کے وزن پر اطبَ يُطْنِبُ اطْنَابًا کا باب افعال ہے۔اطناب کے معنی ہیں کسی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا کسی بات میں مبالغہ کرنا۔(لسان العرب - طنب ) شہادت میں نہ طوالت بیان جائز ہے نہ مبالغہ۔لفظ اطناب مبالغہ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔عربی میں مبالغہ سے تعریف کرنے کو اطر آؤ ( مدح سرائی) کہتے ہیں، جو ممنوع ہے۔باب کا مقصود یہی ہے کہ شہادت میں ضبط الفاظ اور اختصار بیان ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ورنہ شہادت قابل اعتماد نہ رہے گی۔وَلْيَقُلْ مَا يَعْلَمُ : حدیث زیر باب میں وَلْيَقُلُ مَا يَعْلَمُ کے الفاظ نہیں ہیں۔لیکن سابقہ باب کی حدیث میں اس کے ہم معنی ارشاد نبوی بیان کیا جا چکا ہے۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ یہی ارشاد عنوان باب میں الگ نمایاں کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۴۰) باب ۱۸ : بُلُوغُ الصَّبْيَانِ وَشَهَادَتُهُمْ بچوں کی بلوغت اور ان کی شہادت وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جب تمہارے بچے بلوغت کو مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا (النور : ٦٠) پہنچ جائیں تو چاہیے کہ وہ اندر آنے کی اجازت لیں۔