صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 733 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 733

صحيح البخاری جلدم ۵۲ - كتاب الشهادات تشریح : إِذَا زَكَى رَجُلٌ رَجُلًا كَفَاهُ صحت شہادت کے لئے ضروری ہے کہ جس شخص کے حق میں شہادت دی جاتی ہے، گواہ اس کے حالات سے بخوبی واقف ہو۔اس غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے اور عنوان باب میں حضرت ابوجمیلہ (سنین ) کے حوالے سے بھی یہی مقصود ہے۔انہوں نے کسی غزوہ سے واپسی پر ایک لاوارث بچہ پایا اور اسے مدینہ میں لے آئے۔شکایت ہونے پر حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کہ کہیں یہ مصیبت کا باعث نہ بنے۔تو حضرت ابو جمیلہ کے واقف حال شخص نے ان کے حق میں شہادت دی۔حضرت عمر نے مختلف قبائل پر نگران مقرر کر رکھے تھے جنہیں عریف کہتے تھے۔جیسے آج کل کلاس ما نیٹر کو عریف کہتے ہیں۔عریف کی شہادت کا اعتبار کیا گیا تھا اور بیت المال سے اس بچے کا وظیفہ جاری ہوا۔مالکی اور شافعی شہادت صفائی کے لئے کم از کم دو گواہ ضروی قرار دیتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۳۷) مشار الیہ واقعہ سے ظاہر ہے کہ واقف حال شخص ایک بھی صفائی کے لئے کافی ہے اور اس واقعہ میں استغاثہ کی صورت نہ تھی۔ایک شخص کے متعلق صرف شبہ کا ازالہ تھا، عدالتی کاروائی نہ تھی جس میں کم از کم دو شاہد ضروری ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی موجودگی میں اس کی تعریف نا پسند فرمائی ہے۔نہ صرف یہ کہ ایسی تعریف بے محل ہے بلکہ مدوح کو خود پسندی میں مبتلا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں عند الضرورت تعریفی الفاظ میں احتیاط ہونی چاہیے۔ارشاد فَلْيَقُلْ اَحْسِبُ فَلَانًا وَاللهُ حَسِية سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سبق دیا ہے۔اس ارشاد سے مسئلہ معنونہ کا استدلال کیا گیا ہے۔عَسَى الْغُوَيْرُ اَبُوسًا: غُوَيْرٌ، غَارَ کی تصغیر ہے اور ابوس، ہوس کی جمع ہے۔یہ ایک ضرب المثل ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ جس غار کی پناہ ڈھونڈنا چاہتے ہو کہیں اس میں ڈا کو چھپے نہ ہوں یا اس میں پناہ ڈھونڈ تے ڈھونڈتے کسی حادثہ کا شکار نہ ہو جاؤ۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۳۸) ابو جمیلہ کنیت سے دو شخص معروف ہیں۔ایک سنین بن فرقد سلمی قبیلہ بنی سلیم میں سے تھے جو صحابی ہیں۔فتح مکہ میں شریک ہوئے۔اس بات کا ذکر امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے امام زہری کی روایت سے کیا ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۳۰۱) اور دوسرے میسرہ کہوی تابعی کوفی ہیں۔علامہ ابن حجر کے نزدیک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اول الذکر کا حوالہ دیا ہے جو صحابی ہیں اور روایت نمبر ۲۶۶۲ میں مادِحٌ (مدح کرنے والے ) اور مدوح کا نام مذکور نہیں۔شارحین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اول الذکر محسن بن الا درع ( اسلمی ) اور ثانی الذکر عبداللہ ذوالبجادین ہیں۔اس تعلق میں کتاب الأدب باب ۵۴ روایت نمبر ۶۰۶ بھی دیکھئے۔(فتح الباری جز ۵۰ صفحہ ۳۳۸ تا ۳۴۰) (عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحه ۲۳۶ تا ۲۳۸)