صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 732
صحيح البخاری جلدم ۷۳۲ باب ١٦ : إِذَا زَكَّى رَجُلٌ رَجُلًا كَفَاهُ ۵۲ - كتاب الشهادات جب ایک مرد کسی مرد کو الزام سے بری قرار دے تو یہ اس کے لئے کافی ہے وَقَالَ أَبُو جَمِيْلَةَ: وَجَدْتُ مَنْبُوذَا اور حضرت ابو جمیلہ (سنین ) نے کہا: میں نے ایک فَلَمَّا رَآنِي عُمَرُ قَالَ: عَسَى الْغُوَيْرُ (لاوارث بچہ ) پڑا ہوا پایا۔جب حضرت عمرؓ نے مجھے دیکھا تو انہوں نے کہا: مبادا یہ آفت ہو۔گویا وہ مجھے أَبْؤُسًا كَأَنَّهُ يَتْهُمُنِي۔قَالَ عَرِيْفِي: إِنَّهُ زیر الزام سمجھتے تھے۔پھر میرے نقیب نے جو مجھے اچھی رَجُلٌ صَالِحٌ۔قَالَ: كَذَلِكَ؟ اذْهَبْ وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ۔طرح جانتا تھا ، کہا: یہ تو نیک آدمی ہے۔(حضرت عمر نے ) کہا: اگر ایسا ہے تو بچہ لے جاؤ اور اس کا خرچ ہمارے ذمہ ہے۔٢٦٦٢ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۲۶۶۲ محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔خالد حذاء نے ہمیں بتایا۔الْعَذَاءُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ انہوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمن أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی شخص نے ایک شخص کی تعریف کی ، تو آپ نے فرمایا: وائے تجھ پر، تو نے تو فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔تو نے اپنے ساتھی قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ (مِرَارًا)۔ثُمَّ کی گردن کاٹ ڈالی۔آپ نے کئی بار یہ فرمایا۔پھر قَالَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لاَ فرمایا: تم میں سے جس نے اپنے بھائی کی ضرور مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللهُ تعریف ہی کرنی ہو تو چاہیے کہ وہ یوں کہے کہ میں حَسِيْبُهُ۔وَلَا أُزَكّي عَلَى اللهِ أَحَدًا فلاں کو یوں سمجھتا ہوں اور اللہ ہی اس سے خوب أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا إِنْ كَانَ يَعْلَمُ واقف ہے۔میں اللہ کے سامنے کسی کو بے عیب نہیں كية سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا ایسا ہے۔وہ بیان ذلكَ مِنْهُ۔اطرافه: ٦٠٦١، ٦١٦٢۔کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ اسے ویسا ہی جانتا ہو۔