صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 731
صحيح البخاری جلدم ۷۳۱ ۵۲ - كتاب الشهادات فَقَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اللهِ أَحْمِي سَمْعِي سمجھتی ہو جو تم نے دیکھا ہے؟ تو وہ کہتیں : یا رسول اللہ! وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا میں اپنی شنوائی اور بینائی محفوظ رکھوں گی۔میں تو خَيْرًا قَالَتْ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ عائشہ کو پاک دامن ہی سمجھتی ہوں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں اور یہی زینب وہ تھیں جو آنحضرت ﷺ کی ازواج میں سے ) میری برابری کیا کرتی تھیں۔اللہ تُسَامِيْنِي فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ۔قَالَ: عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ وَحَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ نے انہیں پر ہیز گاری کی وجہ سے بچائے رکھا۔(ابور بیع الله سلیمان بن داؤد نے ) کہا : فلیح نے ہمیں بتایا۔انہوں ابْنِ الزُّبَيْرِ مِثْلَهُ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا فُلَيْحٌ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے عروہ سے ) عروہ عَنْ رَبِيْعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ نے حضرت عائشہ اور عبداللہ بن زبیر سے اسی طرح وَيَحْيَى ابْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ روایت کی۔(ابور بیچ نے ) کہا: اور فلیح نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ربیعہ بن ابی عبد الرحمن اور یحی بن سعید مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِثْلَهُ۔سے اور ان دونوں نے قاسم بن محمد بن ابی بکر سے اسی طرح روایت کی۔اطرافه: ٢٥٩٣، ٢٦٣٧، ٢٦٨٨، ٢٨٧٩، ٤٠٢٥، ٤٦٩٠،٤١٤١، ٤٧٤٩، ٤٧٥٠، تشریح: ٠ ٧٥٤٥۷٥۰۰ ،۷۳۷۰ ،۷۳٥ ٦٦٦٢، ٦٦٧٩، ٦٩۲۱۲ ،٤٧٥٧ تَعْدِيلُ النِّسَاءِ بَعْضهنَّ بَعْضًا: مسئلہ معنونہ سے متعلق جمہور کا یہ مذہب ہے کہ عورتوں کی شہادت مردوں کی شہادت سے مل کر قابل وثوق ہے۔لیکن اُس کی تنہا شہادت پایۂ اعتبار سے ساقط ہے اور یہ شہادت ان امور میں بھی قابل قبول ہوگی جن کا عورتوں سے خاص تعلق ہے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عورتوں کی شہادت آپس میں ایک دوسری کی نسبت معتبر ہے۔ان کے شاگردوں میں سے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ جمہور کے مذہب کی تائید میں ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کی بریت کے بارے میں حضرت زینب بنت جحش اور حضرت بریرہ رضی اللہ عنہما کی شہادت پر خطبہ میں اس کا اعلان کیا اور اتہام لگانے والوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا۔عنوان باب میں الفاظ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا سے ایک تیسری رائے کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ عورتیں آپس میں ایک دوسری کی تعدیل کر سکتی ہیں لیکن مردوں کی نہیں۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۳۶، ۳۳۷) الفاظ عَنْ عُرْوَةَ، فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۳۳۵)