صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 730 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 730

صحيح البخاری جلدم ۷۳۰ ۵۲ - كتاب الشهادات کے پاس جاؤ۔میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حالت جاتی رہی تو آ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا مُسکرا رہے تھے اور پہلی بات جو آپ نے فرمائی ، یہ تھی: أَنْ قَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ احْمَدِي اللهَ فَقَدْ عائشہ اللہ کا شکر بجالاؤ کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت بَرَّأَكِ اللَّهُ۔قَالَتْ لِي أَي قَوْمِي إِلَى کردی ہے۔میری ماں نے مجھ سے کہا: اٹھو رسول اللہ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔میں ان کے پاس اٹھ کر نہیں جاؤں گی اور اللہ کے سوا فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ لَا أَقُوْمُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی إِلَّا اللَّهَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ تھی: وہ لوگ جنہوں نے بہتان باندھا ہے وہ تمہیں میں جَاءُ وَ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُم سے ایک جتھا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے میری بربیت (النور: ۱۲) الْآيَاتِ۔فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ هَذَا میں یہ وحی نازل کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا فِي بَرَاءَتِي قَالَ أَبُو بَكْر الصِّدِّيقُ اور وہ سطح بن اثاثہ کو بوجہ اس کے قریبی ہونے کے خرچ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى دیا کرتے تھے۔اللہ کی قسم ! جو سطح نے عائشہ پر افتراء کیا رَضِيَ مِسْطَحِ بْنِ أَثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ - وَاللَّهِ لَا ہے، میں اس کے بعد اس کو اب کبھی خرچ نہیں دوں گا۔مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { اور تم میں سے صاحب أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ بِشَيْءٍ أَبَدًا بَعْدَ أَنْ فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبوں اور مسکینوں قَالَ لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى وَلَا يَأْتَلِ اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا تسم نہ کھائیں۔پس چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور: ۲۳) کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے } حضرت ابو بکر کہنے لگے: کیوں نہیں۔اللہ کی قسم ! میں أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ الَّذِي كَانَ يُجْرِي عَلَيْهِ وَكَانَ ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجھے بخش دے مسطح کو جو خوراک وہ دیا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے تھے پھر ملنے گی۔اور رسول اللہ علیہ حضرت يَسْأَلُ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي زينب بنت جحش سے بھی میرے معاملہ کے بارے فَقَالَ : يَا زَيْنَبُ مَا عَلِمْتِ ؟ مَا رَأَيْتِ؟ میں پوچھا کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: زینب ! تم کیا