صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 730
صحيح البخاري - جلد ۴ ۷۳۰ ۵۲- كتاب الشهادات رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صلى الله عليه وسلم سے وحی کی حالت جاتی رہی تو آپ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا مسکرا رہے تھے اور پہلی بات جو آپ نے فرمائی، یہ تھی: أَنْ قَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ احْمَدِي اللهَ فَقَدْ عائشہ اللہ کا شکر بجالاؤ کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت بَرَّأَكِ اللهُ۔ قَالَتْ لِي أُمِّي : قَوْمِي إِلَى کردی ہے۔ میری ماں نے مجھ سے کہا: اٹھو رسول اللہ کے پاس جاؤ۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ میں ان کے پاس اُٹھ کر نہیں جاؤں گی اور اللہ کے سوا فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ لَا أَقُوْمُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی إِلَّا الله۔ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ تھی: وہ لوگ جنہوں نے بہتان باندھا ہے وہ تمہیں میں جَاءُ وَ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سے ایک جتا ہے ۔ جتا ہے۔ جب اللہ اللہ تعالیٰ نے میری بریت (النور: (۱۲) الْآيَاتِ۔ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ هَذَا میں یہ وحی نازل کی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا فِي بَرَاءَتِي قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ اور وہ مصلح بن اثاثہ کو بوجہ اس اور وہ سطح بن اثاثہ کو بوجہ اس کے قریبی ہونے کے خرچ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى دیا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم ! جو سطح نے عائشہ پر افتراء کیا مِسْطَحِ بْنِ أَثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَاللَّهِ لَا ہے، میں اس کے بعد اس کو اب کبھی خرچ نہیں دوں گا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { اور تم میں سے صاحب أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ بِشَيْءٍ أَبَدًا بَعْدَ أَنْ فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں قَالَ لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلَا يَأْتَلِ اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ تُؤْتُوا قسم نہ کھائیں ۔ پس چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور: ۲۳) کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار (اور) بار بار رحم کرنے والا ۔ ہے} حضرت ابوبکر کہنے لگے: کیوں نہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ الَّذِي كَانَ يُجْرِي عَلَيْهِ۔ وَكَانَ ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجھے بخش دے۔ مسطح کو جو خوراک وہ دیا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے تھے پھر ملنے لگی۔ اور رسول اللہ ﷺنے حضرت يَسْأَلُ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي زينب بنت جحش سے بھی میرے معاملہ کے بارے فَقَالَ : يَا زَيْنَبُ مَا عَلِمْتِ ؟ مَا رَأَيْتِ ؟ میں پوچھا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: زینب ! تم کیا