صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 729 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 729

صحيح البخاری جلدم ۷۲۹ ۵۲ - كتاب الشهادات يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ وَوَقَرَ فِي أَنْفُسِكُمْ سنی ہے جس کا لوگ آپس میں تذکرہ کرتے ہیں اور وَصَدَّقْتُمْ بِهِ وَإِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيْنَةٌ آپ کے دلوں میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور آپ نے اسے درست سمجھ لیا ہے اور اگر میں آپ سے کہوں کہ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي بَرِيْتَةً لَا تُصَدِّقُوْنَنِي میں بری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقع بری بِذَلِكَ وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرِ وَاللَّهُ ہوں آپ مجھے اس میں سچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيْنَةٌ لَتُصَدِّقُنِي۔وَاللهِ مَا آپ کے پاس کسی بات کا اقرار کرلوں حالانکہ اللہ أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوْسُفَ إِذْ جانتا ہے کہ میں بری ہوں مگر آپ اس اقرار میں مجھے سچا سمجھ لیں گے۔اللہ کی قسم ! میں اپنی اور آپ کی کوئی قَالَ: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ مثال نہیں پاتی سوائے یوسف کے باپ کی۔انہوں کوئی وحی نازل ہوگی، بلکہ میں اپنے خیال میں اس عَلَى مَا تَصِفُونَ (يوسف: ١٩) ثُمَّ نے کہا تھا: صبر کرنا ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگنی تَحَوَّلْتُ عَلَى فِرَاشِي وَأَنَا أَرْجُو أَنْ چاہیے اس بات میں جو تم لوگ بیان کر رہے ہو۔اس يُبَرِّتَنِي اللهُ۔وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ أَنْ کے بعد میں ایک طرف ہٹ کر اپنے بستر پر يُنْزِلَ فِي شَأْنِي وَحْيَا وَلَأَنَا أَحْقَرُ فِي آگئی اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ مجھے بری کرے گا۔لیکن بخدا! مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میرے متعلق بھی نَفْسِي مِنْ أَنْ يُتَكَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فِي أَمْرِيْ وَلَكِتِي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تَرَى سے بہت اونی تھی کہ میری نسبت قرآن میں بیان کیا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جائے لیکن مجھے یہ ضرور امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ النَّوْمِ رُؤْيَا تُبَرِّئُنِي فَوَ اللَّهِ مَا رَامَ علیہ وسلم نیند میں کوئی ایسی خواب دیکھ لیں کہ اللہ مجھے مَجْلِسَهُ وَلَا خَرَجَ أَحَدٌ مِّنْ أَهْلِ بَری قرار دیتا ہے۔اللہ کی قسم ! آپ ابھی بیٹھنے کی جگہ سے الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ اہل بیت میں سے کوئی الْبَيْتِ حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَأَخَذَهُ باہر گیا تھا کہ اتنے میں آپ پر وحی نازل ہوئی اور مَا يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ حَتَّى إِنَّهُ سخت تکلیف آپ کو ہوا کرتی تھی وہ آپ کو ہونے لگی لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ ) اور آپ کو اتنا پسینہ آتا ) کہ سردی کے دن میں بھی فِي يَوْمٍ شَاتٍ فَلَمَّا سُرِيَ عَنْ آپ سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکتا۔جب رسول اللہ عمدۃ القاری میں تُبر نبی کی بجائے "يُبر تنی اللہ کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۲۲۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔