صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 728
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۲۸ ۵۲ - كتاب الشهادات صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَلَمْ آنے کی اجازت چاہی اور میں نے اسے اجازت يَجْلِسْ عِنْدِي مِنْ يَوْمِ قِيْلَ فِيَّ مَا قِيْلَ دی۔وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ہم اسی قَبْلَهَا وَقَدْ مَكَثَ شَهْرًا لَّا يُوْحَى إِلَيْهِ حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے فِي شَأْنِي شَيْءٌ قَالَتْ: فَتَشَهَّدَ ثُمَّ اور بیٹھ گئے اور اس سے پہلے جس دن سے مجھ پر تہمت لگائی گئی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور آپ قَالَ : يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا ایک مہینہ منتظر رہے مگر میرے متعلق آپ کو کوئی وحی نہ وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيْنَةً فَسَيُبَرِتُكِ الله ہوئی۔کہتی تھیں : آپ نے تشہد پڑھا۔پھر آپ نے وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي فرمایا: عائشہ ! مجھے تمہارے متعلق یہ بات پہنچی ہے سو اگر اللَّهَ وَتُؤْبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ تم بری ہو تو ضرور اللہ تعالیٰ تمہیں بری فرمائے گا اور اگر بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ۔فَلَمَّا تم سے کوئی کمزوری ہوگئی ہو تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور تو بہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقرار کرتا ہے اور اس کے بعد تو بہ کرتا ہے تو اللہ بھی مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ اس پر رحم کرتا ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قَطْرَةً وَقُلْتُ لِأَبِي : أَجِبْ عَنِي رَسُولَ اپنی بات ختم کر چکے میرے آنسو خشک ہو گئے ، یہاں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَاللَّهِ تک کہ آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہوا، اور میں نے اپنے باپ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لَا أَدْرِي مَا أَقُوْلُ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ میری طرف سے جواب دیجئے۔تو انہوں نے کہا: بخدا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔فَقُلْتُ لِأُمِّي : أَجِيْبِي عَنِّي میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا کیا کہوں۔پھر میں نے اپنی ماں سے کہا: آپ ہی قَالَ۔قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آپ نے فرمایا ہے اس کا میری طرف سے جواب دیں۔انہوں نے کہا: بخدا لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔میں نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قَالَتْ: وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا کیا کہوں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں : میں کم عمر لڑکی أَقْرَأْ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ: إِنِّي تھی۔قرآن مجید زیادہ نہیں جانتی تھی ، تو میں نے کہا: وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ سَمِعْتُمْ مَا بخدا مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات