صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 727 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 727

صحيح البخاری جلدم ۷۲۷ ۵۲ - كتاب الشهادات أَعْدُرُكَ مِنْهُ إِنْ كَانَ مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا گھر والوں کے پاس جب بھی وہ آیا کرتے میرے عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ ساتھ ہی آتے۔اس پر حضرت سعد بن معاذ " کھڑے الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا فِيْهِ أَمْرَكَ۔فَقَامَ ہوئے اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! بخدا میں اس سے آپ کا بدلہ لوں گا۔اگر وہ اوس کا ہوا تو میں اس سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَج وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَحِ کی گردن اڑا دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِن سے ہوا تو جو بھی آپ ہمیں حکم دیں گے ہم آپ کا حکم احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ - فَقَالَ: كَذَبْتَ بجالائیں گے۔اس پر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے لَعَمْرُ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَى ہوئے اور وہ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے وہ ذَلِكَ۔فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرُ فَقَالَ : اچھے آدمی تھے لیکن قومی عزت نے انہیں بھڑکا دیا اور كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللهِ وَاللَّهِ لَتَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ انہوں نے کہا: تم نے غلط کہا اللہ کی قسم ! تم اسے نہیں مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِيْنَ فَتَارَ مارو گے اور نہ ایسا کرسکو گے۔اس پر اسید بن حفیر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا: تم نے غلط کہا ہے۔الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا اللہ کی قسم! اللہ کی قسم ! ہم اسے ضرور مارڈالیں گے۔تو وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو منافق ہے جو منافقوں کی طرف سے جھگڑتا ہے۔عَلَى الْمِنْبَرَ فَنَزَلَ فَخَفْضَهُمْ حَتَّى اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج بھڑک اٹھے۔یہاں سَكَتُوْا وَسَكَتَ وَبَكَيْتُ يَوْمِي لَا تک کہ وہ لڑنے پر آمادہ ہو گئے اور رسول اللہ یہ منبر يَرْقَأُ لِي دَمْعَ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ فَأَصْبَحَ پر کھڑے تھے۔آپ اُترے اور ان کو ٹھنڈا کیا یہاں عِنْدِي أَبَوَايَ وَقَدْ بَكَيْتُ لَيْلَتَيْ وَيَوْمًا تک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ بھی خاموش ہور ہے۔حَتَّى أَظُنُّ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقَ كَبِدِي اور میں سارا دن روتی رہی نہ میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی۔میرے ماں باپ میرے پاس آگئے۔قَالَتْ : فَبَيْنَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا میں دو راتیں اور ایک دن اتنا روئی کہ میں سمجھی کہ یہ أَبْكِي إِذِ اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ رونا میرے جگر کوشق کر دے گا۔کہتی تھیں کہ اس اثناء فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي فَبَيْنَا میں وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ رو رہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر