صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 726
صحيح البخاری جلدم فِرَاقِ ۷۲۶ ۵۲ - كتاب الشهادات أَهْلِهِ فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ سے اپنی بیوی کو چھوڑنے کے بارے میں مشورہ بِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ مِنَ الْوُدِ لَهُمْ کریں۔اُسامہ نے تو آپ کو اس محبت کی بناء پر مشورہ فَقَالَ أَسَامَةُ أَهْلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا دیا، جو ان کو آپ کی بیویوں سے تھی۔اُسامہ نے کہا: نَعْلَمُ وَاللَّهِ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي يا رسول اللہ! آپ کی بیوی ہیں اور ہم اللہ کی قسم !۔سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتے۔لیکن علی بن طَالِبٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُضَيِّقِ ابی طالب نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ پر کچھ اللهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ تنگی نہیں رکھی اور اس کے سوا اور عور تیں بہت ہیں ، اور الْجَارِيَةَ تَصْدُقُكَ فَدَعَا رَسُوْلُ اللَّهِ اس خادمہ سے پوچھئے۔وہ آپ سے بچ سچ کہہ دے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيْرَةَ فَقَالَ : گی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا يَا بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ فِيْهَا شَيْئًا يَرِيْبُكِ؟ اور آپ نے کہا: بریرہ ! کیا تم نے اس میں کوئی ایسی فَقَالَتْ بَرِيْرَةُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ بات دیکھی جو تمہیں شبہ میں ڈالے۔بریرہ نے کہا: إِنْ رَأَيْتُ مِنْهَا أَمْرًا أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا قَطُّ ہر گز نہیں۔اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِ تَنَامُ ساتھ بھیجا ہے۔میں نے حضرت عائشہ میں اس سے عَنِ الْعَجِيْنِ فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ۔زیادہ کوئی اور بات نہیں دیکھی جس کو میں ان کے لئے فَقَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ معیوب سمجھوں کہ وہ کم عمر لڑ کی ہے۔آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہے۔گھر کی بکری آتی ہے اور وہ اسے کھا جاتی مِنْ يَوْمِهِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ہے۔یہ سن کر اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابْن سَلُوْلَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله صحابہ کو مخاطب فرمایا اور عبداللہ بن ابی بن سلول کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُعْذُرُنِي مِنْ رَجُلٍ شکایت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ ایسے شخص کو کون سنبھلے ، جس نے میری بیوی کے بارے عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا میں مجھے دُکھ دیا ہے۔میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں کہ اپنی مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَمَا كَانَ بیوی میں سوائے بھلائی کے اور کوئی بات مجھے معلوم يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي فَقَامَ سَعْدُ نہیں اور ان لوگوں نے ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کی ابْنُ مُعَادٍ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ وَاللهِ أَنَا بابت بھی مجھے بھلائی کے سوا کوئی علم نہیں اور میرے