صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 725 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 725

صحيح البخاری جلد ۴ ۷۲۵ ۵۲ - كتاب الشهادات تَعِسَ مِسْطَحْ۔ فَقُلْتُ لَهَا: بِئْسَ مَا میں نے اس سے کہا: کیا ہی بری بات ہے جو تم نے قُلْتِ أَتَسْبِيْنَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا؟ کہی ہے۔ کیا تو ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہے جو جنگ فَقَالَتْ : يَا هَنْتَاهُ أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالُوْا ؟ بدر میں موجود تھا تو اس نے کہا: اری بھولی بھالی ! کیا تم فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ فَازْدَدْتُ نے نہیں سنا جولوگوں نے افتراء کیا ہے؟ تب اس نے مَرَضًا عَلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى مُجھے تہمت لگانے والوں کی بات سنائی ۔ اس پر میری بَيْتِي دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله بیماری بڑھ گئی۔ جب اپنے گھر کوکوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور آپ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ : كَيْفَ تِيْكُمْ؟ السلام علیکم کہا اور آپ نے پوچھا: اب تم کیسی ہو؟ فَقُلْتُ: ائْذَنْ لِي إِلَى أَبَوَيَّ- قَالَتْ: میں نے کہا: مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ اجازت دیں۔ کہتی تھیں: میں اس وقت یہ چاہتی تھی قِبْلِهِمَا فَأَذِنَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی کہ میں ان کے پاس جا کر اس کی نسبت معلوم کرلوں ۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ أَبَوَيَّ فَقُلْتُ آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین لِأُمِّي : مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ ؟ فَقَالَتْ : کے پاس آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا: لوگ کیا يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَى نَفْسِكِ الشَّأْنَ فَوَاللهِ باتیں کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیٹی ، اس بات لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ سے اپنی جان کو جنجال میں نہ ڈال۔ اطمینان سے رہو۔ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا أَكْثَرْنَ اللہ کی قسم اسم ہی ایسا ہوا ہے کہ بھی کسی شخص کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہو، جس سے وہ محبت رکھے عَلَيْهَا فَقُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَلَقَدْ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِهَذَا؟ قَالَتْ: فَبِتُّ اور اس کی سوکنیں ہوں اور پھر اس کے برخلاف باتیں نہ کریں۔ میں نے کہا: سبحان اللہ ! لوگ ایسی بات کا تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَا لِي چرچا کر رہے ہیں۔ کہتی تھیں: میں نے وہ رات اس دَمْعَ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ۔ ثُمَّ أَصْبَحْتُ طرح کائی کہ صبح تک نہ میرے آنسو تھے اور نہ مجھے فَدَعَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نیند آئی۔ جب میں صبح اٹھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ نے علی بن ابی طالب اور اُسامہ بن زید کو بلایا؟ اس حِيْنَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْتَشِيْرُهُمَا فِي وقت جب وحی کے آنے میں دیر ہوئی تا ان دونوں