صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 724
صحيح البخاري - جلد ۴ ۷۲۴ ۵۲ - كتاب الشهادات سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي وَكَانَ تھے۔ ان کے انا للہ پڑھنے پر میں جاگ اٹھی۔ جب يَرَانِي قَبْلَ الْحِجَابِ فَاسْتَيْقَظْتُ انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی میں نے اپنا پاؤں ان کے بِاسْتِرْ جَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ ایک ہاتھ پر رکھا اور میں اس پر سوار ہو گئی اور وہ اونٹنی يَدَهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُوْدُ بِي کی نکیل پکڑ کر چل پڑے۔ یہاں تک کہ ہم فوج میں الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا اس وقت پہنچے جبکہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لئے ڈیروں میں تھے۔ پھر جس کو ہلاک نَزَلُوا مُعَرِّسِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى ہونا تھا ہلاک ہو گیا اور اس تہمت کا بانی عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ ہم مدینہ پہنچے۔ میں وہاں ایک ماہ تک الْإِفْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَ ابْنُ سَلُولَ بیمار رہی۔ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا لوگ چرچا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ بِهَا شَهْرًا کرتے رہے اور میری اس بیماری کے اثناء میں جو وَالنَّاسُ يُفِيضُوْنَ مِنْ قَوْلِ أَصْحَابِ بات مجھے شک میں ڈالتی تھی وہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ الْإِفْكِ وَيَرِيْبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَرَى عليه وسلم سے وہ مہربانی نہ دیکھتی تھی جو میں آپ سے مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنی بیماری میں دیکھا کرتی تھی۔ آپ صرف اندر النُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِيْنَ آتے اور اسلام علیکم کہتے پھر پوچھتے اب وہ کیسی ہے۔ أَمْرَضُ إِنَّمَا يَدْخُلُ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ: مجھے اس تہمت کا کچھ بھی علم نہ تھا۔ یہاں تک کہ جب میں تھی کہ ، كَيْفَ تِيْكُمْ ۚ لَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ میں نے بیماری سے شفا پائی ، حالت نقابت میں میں اور اہم مسطح مناصع کی طرف گئیں جو قضائے ئے حاجت حَتَّى نَفَهْتُ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَح کی جگہ تھی۔ ہم رات ہی کو نکلا کرتے تھے اور یہ اس قِبَلَ الْمَنَاصِعِ مُتَبَرَّزِنَا لَا نَخْرُجُ إِلَّا وقت سے پہلے کی بات ہے جب ہم نے اپنے گھروں لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ کے قریب بیت الخلاء بنائے اور اس سے قبل ہماری الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُؤْتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ حالت پہلے عربوں کی سی تھی جو جنگل میں یا باہر الگ الْعَرَبِ الْأَوَّلِ فِي الْبَرِّيَّةِ أَوْ فِي التَّنَزُّهِ۔ جاکر قضائے حاجت کیا کرتے تھے۔ میں اور ام مسطح فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ بِنْتُ أَبِي رُهْم بنت ابی رہم دونوں جا رہی تھیں کہ اتنے میں وہ اپنی نَمْشِي فَعَثَرَتْ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ: اَوڑھنی سے انکی اور ٹھو کر کھائی۔ تب بولی مسطح بدنصیب۔