صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 48 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 48

صحيح البخاری جلد ۴ ΠΑ ۳۴- كتاب البيوع خواہیں تعبیر طلب ہوتی ہیں۔خون اور پانی قیام زندگی کا باعث ہیں۔چنانچہ اگر کوئی خواب میں دریا دیکھے اور اُس سے پانی پئے تو امام محمد بن سیرین نے اس کی تعبیر مال و دولت کی ہے۔سود خور بنی نوع انسان کا خون چوستا ہے اور اپنی دولت بڑھاتا ہے، جس کی پاداش کا نظارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا مگر نجات نہیں پاسکے گا۔آپ کو رویا میں پتھر مارنے کا نظارہ دکھایا گیا ہے۔پتھر قساوت قلبی شدت اور تلخ زندگی پر دلالت کرتے ہیں۔سود خور کی جو حالت قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے وہ ایک مخبوط الحواس انسان کی سی ہے جو مال و دولت کے لالچ سے مجنون اور حواس باختہ ہے۔چنانچہ اس خواب کی تعبیر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے وہ بھی ایسی ہی زندگی کے مناسب حال ہے۔محولہ بالا آیت میں سود خور لوگوں کا انجام بد بطور پیشگوئی بتایا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایک لڑائی مول لینے والے ہوں گے۔فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ۔آج کل کے واقعات اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔عیسائی حکومتوں کی جنگیں سود کے بل بوتے پر ہی لڑی جاتی ہیں۔سود کالالچ نہ ہو تو جنگی اخراجات کے لئے بے شمار روپیہ مہیا ہوناممکن نہیں۔خواب نبوی کی تعبیر یہ خونی جنگیں بھی ہو سکتی ہیں۔یہود بحیثیت قوم سود خوری میں شہرہ آفاق ہیں۔تاریخ قدیم میں بھی اور تاریخ جدید میں بھی۔انہیں ملک یہ ملک جو در بدر ہونا پڑا اور اُن کے خون سے ہر جگہ جو ہولی کھیلی گئی ، اس کے پس پردہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب سود بھی تھا، جو اَضْعَافًا مُضعَفَةً کی صورت میں دیا جاتا تھا اور یہ ایک طرف اُن کی دولت مندی کا سبب ہوتا اور دوسری طرف اُن کے استیصال کا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہودیوں کا ایک قول نقل کیا ہے ، فرماتا ہے : لَقَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ ونَحْنُ أَغْنِيَاءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتَلَهُمُ الْانْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍ * وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ (آل عمران : ۱۸۲) اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کی بات سن لی ہے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ تو محتاج ہے ( جو مومن بندوں کو مال نہیں دیتا ) اور ہم دولت مند ہیں۔اُن کی یہ بات ہم ضرور لکھیں گے اور یہ بھی لکھیں گے کہ وہ انبیاء کے مارنے کے درپے رہے۔ہم انہیں کہیں گے جلن کا عذاب چکھو۔جملہ لَقَدْ سَمِعَ اللهُ اور سَنَكْتُبُ کے الفاظ شدید انذار اور تمہاری تجلی پر دلالت کرتے ہیں۔یعنی ہم اُن کی بات کا جواب اور انبیاء کا مقابلہ تاریخی داستان بنادیں گے۔مید و فارس میں سودی کاروبار سے اُن کی دولت مندی آخر سبب ہوئی اُن کے قرضداروں کی بغاوت یلغار کا، جو انہوں نے یہودیوں پر کی۔یہ واقعات بابل اور مید و فارس کی تاریخ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ہمارے زمانے میں جرمنی اور پولینڈ وغیرہ میں یہودیوں پر جو گذری وہ نہایت ہی ہولناک اور دردانگیز داستانِ عذاب الحریق ہے۔اسی طرح عیسائی دنیا میں موجودہ زمانے کی جنگیں۔یہ حال تو اُن قوموں کا ہے جو سود میں شہرہ آفاق ہیں۔مگر سود خور افراد کی حالت انفرادی صورت میں بھی اس سے کم خطرناک نہیں۔بعض شارحین صحیح بخاری نے مذکورہ بالا خواب کی تطبیق قیامت سے وابستہ رکھی ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو اس دنیا میں بھی سود خور کا انجام عبرت ناک ہے۔اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے دیکھئے: اسلام کا اقتصادی نظام مصنفہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ۔م