صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 47 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 47

صحيح البخاری جلد ۴ ۴۷ ۳۴- كتاب البيوع الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُ الرِّبَا ۔ کیا ماجرا ہے؟ تو اُس نے کہا: جس شخص کو آپ نے ندی میں دیکھا ہے۔ وہ سود خوار ہے۔ اطرافه: ٨٤٥، ١١٤٣، ١٣٨٦ ، ٢٧٩١، ٣٢٣٦، ٣٣٥٤، ٤٦٧٤، ٦٠٩٦، ٧٠٤٧۔ تشريح : أَكِلُ الرِّبَا وَشَاهِدُهُ وَكَاتِبُه : عنوان باب میں جس آیت کا حوال دیا گیا ہے وہ سورہ بقر کی آیت نمبر ۲۷۶ ہے۔ اس میں سود سود خور کی ذہنی کیفیت و طریق کار اور اس کے بدانجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ محولہ بالا آیت کے بعد سود کے تعلق میں دو اور آیتیں ہیں۔ جن کی ترتیب بدل کر دو اور الگ الگ باب قائم کئے گئے ہیں۔ ایک میں مومنوں کو حکم ہے کہ اس اعلان حرمت کے بعد جو سود باقی ہو وہ چھوڑ دیا جائے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو وہ ایک جنگ کے لئے تیار ہو جائیں ۔ (البقرۃ:۲۸۰،۲۷۹) دوسری میں سودی کا روبار کے نقصان دہ رد عمل کا ذکر ہے؛ جو انجام کاراندر ہی اندر گھن کی طرح اپنے آپ کو کھاتا رہتا ہے اور آخر وہ نفع جس کے لئے سودی کاروبار کیا جاتا ہے، خود بخود کالعدم ہو جاتا ہے۔ (البقرۃ: ۲۷۷) یہ تینوں باب تین آیتوں کے حوالے سے قائم کر کے ان سے متعلقہ مستند روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ شَاهِدُهُ وَكَاتِبُهُ : باب ۲۴ کے عنوان میں سود خوار کے گواہ اور سودی تحریر کی سود خوار کے گواہ اور سودی تحریر کا ذکر ہے۔ بظاہر نظر گواہ اور لکھنے والے کا ذکر نہ محولہ آیت میں ہے اور نہ زیر عنوان روایتوں میں ۔ ابن التین رحمۃ اللہ علیہ نے اس اشکال کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دونوں ممد و معاون ہونے کی وجہ سے اس فعل میں شر وجہ سے اس فعل میں شریک ہیں۔ علامہ ابن حجر کا خیال ہے کہ صحیح مسلم اور سنن ابو داؤد وغیرہ کی مروی حدیثوں میں ان تینوں کا ذکر آتا ہے۔ امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی جو روایت نقل کی ہے، اُس کے یہ الفاظ ہیں : لَعَنَ رَسُولُ اللهِ آكِلَ الرِّبَا وَ مُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ۔ یہی روایا صلى الله وسلم ی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، جس میں لفظ شَاهِدَيْهِ کی جگہ شَاهِدَهُ ہے۔ چونکہ آیت لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُوا الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِ کی وعید صرف سود خور ہی سے مخصوص ہے۔ اس لئے امام ابن حجر کا خیال ہے کہ امام بخاری کے پیش نظر ان روایات کی تحقیق و تصدیق ہے جو متعدد محد ثین نے اپنی مسندوں میں نق میں نقل کی ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۳۹۷) ہیں۔ اس باب میں دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جس میں سورہ بقرہ کی آیات متعلقہ بیع و شراء میں کتابت و شہادت کی ضرورت اور سودی لین دین کی حرمت اور دوسری روایت حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی منذر خواب کا ذکر ہے۔ خواب کے نظارے میں سود خور کی حالت بیان کی گئی ہے۔ (مسلم، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في آكل الربا وموكله)