صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 49
صحيح البخاری جلدم ۴۹ ۳۴- كتاب البيوع بَاب ٢٥ : مُوكِلُ الرِّبَا سود کھلانے والا لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَاَيُّهَا الَّذِينَ اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ امَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ (کی ناراضگی ) سے بچو اور اگر تم مؤمن ہو تو وہ سود جو باقی الرّبوا إن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ فَاِن رہ گیا ہے اُسے چھوڑ دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ( بر پا ہونے والی ) جنگ کی خبر سن لو اور اگر تم (سود سے ) تو بہ کر لو تو تمہارا ج وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ رَأس المال تمہارے لئے ہے۔نہ تم کسی پر ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم ہوگا اور اگر کوئی (مقروض ) تنگی میں ہو تو وَإِنْ كَانَ ذُوعُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ آسودگی حاصل ہونے تک (اسے) مہلت دینی ہوگی وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْر لَكُمْ إِن كُنتُم اور اگر تمہیں حقیقت حال کا صحیح علم ہو جائے تو تمہارا تَعْلَمُونَ وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ ) اس شخص کو راس المال بھی ) صدقہ کے طور پر دے إلَى اللهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا دینا سب سے اچھا کام ہوگا اور اُس دن سے ڈرو جس كَسَبَتْ } وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔پھر ہر نفس کو جو (البقرة: ۲۷۹ - ۲۸۲) اُس نے کمایا ہوگا، پورا پورا دیا جائے گا اور اُن پر کوئی قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَذِهِ آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ ظلم نہ کیا جائے گا۔حضرت ابن عباس نے کہا: یہ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔آخری آیت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔۲۰۸۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۲۰۸۲: ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہم سے بیان شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْن أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔عون بن ابی جحیفہ سے مروی رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى عَبْدًا حَجَّامًا ہے۔انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ کو دیکھا کہ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے ایک غلام خریدا، جو حجام تھا اور اُس کی حجامت وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَثَمَنِ الدَّمِ کے آلات توڑ ڈالے) میں نے ان سے وجہ پوچھی تو آیت کے یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق متن میں شامل ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۲۰۱)