صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 721 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 721

صحيح البخاری جلد ۴ دَعْهَا عَنْكَ۔ أَوْ نَحْوَهُ۔ ۷۲۱ ۵۲ - كتاب الشهادات اب کیسے ہو جبکہ یہ کہا گیا ہے، اسے چھوڑ دو یا آپ نے کچھ ایسا ہی فرمایا۔ اطرافه ۸۸، ٢٠٥۲، ٢٦٤٠، ٢٦٥٩، ٥١٠٤۔ صلى الله تشريح : شَهَادَةُ الْمُرْضِعَةِ: رضاعت کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے ایک لونڈی کی شہادت کے حضرت مطابق فیصلہ فرمایا۔ حالات کے مطابق ایک گواہ بھی کافی ہے۔ اس میں دارالقضاء کو کسی ایک نظریہ سے مقید نہیں کیا گیا۔ اسلامی فقہ کی یہی وہ برکت ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ ** صادق آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک رضاعت میں ایک شہادت کافی نہیں۔ امام مالک کا بھی یہی مذہب ہے کہ فیصلہ کے لئے دوسری عورت کی شہادت چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ بالا فیصلہ صرف تنزیہی صورت رکھتا ہے کہ آپ نے عقبہ رضی اللہ عنہ کو صرف مشورہ دیا ہے نہ حکم ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے دودھ پلانے کی بات تسلیم نہیں کی اور کہا: اگر ایسی بات تھی تو پہلے کیوں نہ اطلاع دی ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عنوان نا تمام رکھا ہے اور وہ جمہور کی رائے سے متفق معلوم ہوتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک نِسْبَةُ الرَّضَاعَةِ بِمَا يَثْبُتُ بِهِ الْمَالُ) رضاعت میں بھی مالی شہادت کی سی صورت ہے۔ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ۔ حضرت عمرؓ نے بھی بینہ یعنی کھلی شہادت کے بغیر صرف ایک عورت کی شہادت پر فیصلہ صادر نہیں کیا بلکہ معاملہ خاوند بیوی کی رائے پر چھوڑا ہے اور فرمایا کہ اگر یہ دروازہ کھولا گیا تو ایک عورت ایک دوسرے سے جب اور جہاں چاہے گی شہادت دے کر زوجین کو ایک دوسرے سے جدا کر سکے گی۔ اس میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے رضاعت میں ایسی عورتوں کی شہادت نظر انداز کرنے کا فتوی دیا ہے جو نا صح اور خیر خواہ بن کر از خود گواہی کے لئے پیش ہوئی ہوں ان کی شہادت قطعاً قابل قبول نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه (۲۳۲٬۲۳) باب ١٥ : تَعْدِيْلُ النِّسَاءِ بَعْضِهِنَّ بَعْضًا عورتیں ایک دوسرے کے عادل ہونے کی شہادت دے سکتی ہیں ٢٦٦١ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ ۲۶۶۱: ابوربیع سلیمان بن داؤد نے ہم سے بیان کیا ابْنُ دَاوُدَ وَأَفْهَمَنِي بَعْضَهُ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا اور احمد بن یونس ) نے بھی اس حدیث کا ایک حصہ فَلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مجھے سمجھایا۔ (انہوں نے کہا:) ہمیں فلیح بن سلیمان نے الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدِ بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب زہری سے، ابن شہاب نے (كشف الخفاء، الهمزة مع الخاء المعجمة، جزء اول صفحه ۶۴)