صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 720 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 720

صحيح البخاری جلدم ۷۲۰ ۵۲ - كتاب الشهادات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي دودھ پلا چکی ہوں۔میں نے اس کا ذکر نبی ہے سے قَالَ : فَتَنَجَّيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ: کیا تو آپ نے مجھ سے منہ پھر لیا۔کہتے تھے: میں وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ دوسری طرف سے آپ کے سامنے آیا۔میں نے آپ سے یہ ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: اب کیسے اکٹھے رہ سکتے ہو، جب وہ کہتی ہے کہ وہ تم دونوں کو دودھ پلا أَرْضَعَتْكُمَا فَنَهَاهُ عَنْهَا۔چکی ہے۔تو آپ نے ان کو اس عورت سے روک دیا۔اطرافه ،۸۸، ۲۰۰۲، ٢٦٤۰، ٢٦٦٠، ٥١٠٤ تشریح: نہ ہو کیونکہ وہ اپنے ارادے، رائے اور تصرف میں آزاد نہیں۔عنوان باب کے حوالہ جات کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۹، ۳۳۰ نیز عمدة القاری جزء۱۳ صفحه ۲۲۲ ۲۲۳۔البتہ بعض فقہاء نے لونڈی غلام کے لئے یہ شرط شَهَادَةُ الْإِمَاءِ وَالْعَبِيدِ : فقہاء نے شروط عدالت میں حریت کی شرط بھی تجویز کی ہے کہ گواہ غلام عائد کی ہے کہ ان کی شہادت اپنے آقا سے متعلق نہ ہو جیسا کہ قریبی کی شہادت قریبی کی نسبت قابل قبول نہیں۔كُلُّكُمْ بَنُو عَبِيدِ وَاِمَاءِ : قاضی شریح کا حکیمانہ قول ابن ابی شیبہ ہم نے نقل کیا ہے۔ابن سکن کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: كُلُّكُمْ عَبِيدٌ واِمَاء ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۳۰) ہر شخص کسی نہ کسی کے زیر تسخیر ہے۔حقیقی آزادی اور شرف وعزت تو تقویٰ سے ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ انْقَكُم (الحجرات : ۱۴) تقوی کی جامع صفت جس میں پائی جائے گی وہی شہادت دینے کا اہل سمجھا جائے گا۔بَاب ١٤ : شَهَادَةُ الْمُرْضِعَةِ دودھ پلانے والی کی گواہی حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ۲۶۶۰: ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمر بن عُمَرَ بْن سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ سعید سے عمر نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عقبہ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: تَزَوَّجْتُ بن حارث سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے امْرَأَةً فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ ایک عورت سے شادی کی۔پھر ایک عورت آئی اور کی۔أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔میں نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : وَكَيْفَ وَقَدْ قِيْلَ؟ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: مصنف ابن ابي شيبة، كتاب البيوع والأقضية، باب من كان يجيز شهادة العبيد، جز ۲ صفحه ۲۹۲)