صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 718
صحيح البخاری جلدم 21A ۵۲ - كتاب الشهادات ط یعنی طلاق سے متعلق فیصلہ کرتے وقت اپنے میں سے دو منصف گواہ مقرر کرو اور خدا تعالیٰ کے لئے کچی گواہی دو۔یہ آیت حدود ہی کے تعلق میں وارد ہوئی ہے۔اسی طرح فرمایا ہے: لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجُنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا (الطلاق:۲) عدت پوری ہونے سے قبل انہیں گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود کلیں ورنہ وہ کھلے گناہ کے مرتکب ہوں گے۔یہ اللہ کی حدود ہیں جو ان حدود سے نکلا اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔تجھے معلوم نہیں کہ اللہ اس واقعہ کے بعد کچھ اور ظاہر کر دے۔اور فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِارْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجُلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَّلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (النور:۵) {وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ پیش نہیں کرتے تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور یہی لوگ ہیں جو بدکردار ہیں۔} یہ آیت مرد اور عورت دونوں کو شہادت اور سزا میں شامل کرتی ہے۔عنوان باب اور مندرجہ روایت سے ظاہر ہے کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ان فقہاء سے متفق ہیں جو حدود یا غیر حدود میں عورت کی شہادت جائز سمجھتے ہیں۔الفاظ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا عورت کو شہادت سے خارج نہیں کرتے بلکہ مردوں کے مقابل میں عورتوں کی نصف تعداد کی وجہ بیان کرتے ہیں۔عقل کی کمی سے مراد ان کے ذہنی قومی کی کمزوری ہے جو شہادت میں شبہ کا احتمال پیدا کرنے کا موجب ہیں جیسے حافظ امام عا مرشعبی کا قول سابقہ باب (نمبر11) کے عنوان میں نابینا کی شہادت کے متعلق گزر چکا ہے کہ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ إِذَا كَانَ عَاقِلًا یعنی مرد کی شہادت بھی قبول کرنے میں عقل کی شرط ہے۔اس تعلق میں کتاب الحیض تشریح باب ۶ روایت نمبر ۳۰۴ بھی دیکھئے۔مہلب رحمتہ اللہ علیہ نے اسی حدیث سے یہ استنباط بھی کیا ہے کہ عادلانہ فیصلہ صادر کرنے کی غرض سے گواہ خواہ مرد ہوں یا عورتیں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ صحت عقل وعدالت کے لحاظ سے کون انسب وافضل ہے۔مگر بعض نے آیت أَن تَضِلُّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكَّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى (البقرة: ۲۸۳) کے پیش نظر قاضی کے لئے یہ موازنہ و مقابلہ بھی جائز قرار نہیں دیا کہ ان میں سے کون انسب وافضل ہے۔ورنہ فیصلہ میں اس کی رائے کا دخل ہو جائے گا۔اس آیت میں صراحت ہے کہ ایک عورت بھول جائے تو وہ دوسری کو یاد کر اسکتی ہے۔قاضی کو اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ ان میں سے کونسی عورت شہادت کے لئے بہتر ہے۔حدود وغیرہ سے متعلق جن امور میں صرف عورت کی شہادت ہی کام دے سکتی ہے، وہی قابل اعتبار ہوگی۔جمہور کے نزدیک چار گواہوں کی تعدا د ضروری ہے۔امام مالک اور ابن ابی لیلی رحمہما اللہ نے دو گواہ کافی سمجھے ہیں۔بلکہ شعبی اور ٹورٹی کے نزدیک تو ایک بھی کافی ہے اگر گواہ عادل ہو۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۲۲۲)