صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 717 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 717

صحيح البخاری جلدم 412 ۵۲ - كتاب الشهادات زَيْدٌ عَنْ عِيَاضٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي زيد بن اسلم) نے مجھے بتایا۔انہوں نے عیاض بن سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عن عبداللہ سے، عیاض نے حضرت ابوسعید خدری النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: کیا عورت کی شہادت شَهَادَةِ الرَّجُل؟ قُلْنَ: بَلَى قَالَ: مرد کی شہادت کے نصف کے برابر نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ اس کی عقل کی کمی کے سبب سے ہے۔فَذَلِكَ مِنْ تُقْصَانِ عَقْلِهَا۔اطرافه ٣٠٤، ٩٥٦، 1461، 1951۔تشریح: شَهَادَةُ النِّسَاءِ: فقہاء نے بالا تفاق محولہ بالا آیت کے پیش نظر عورتوں کی شہادت سے متعلق بالاتفاق علی الاطلاق جواز کا فتویٰ دیا ہے۔مگر جمہور نے ان کی شہادت کو مالیات سے مخصوص رکھا ہے۔حدود و قصاص میں ان کی شہادت قابل اعتماد نہیں سمجھی۔اسی طرح نکاح ، طلاق ، ولاء ونسب میں بھی ان کا اختلاف ہے۔جمہور کے نزدیک تو جائز نہیں لیکن فقہاء کوفہ نے اجازت دی ہے کہ ایسے امور میں جن کا تعلق عورتوں ہی سے ہے انہی کی شہادت قابل لحاظ مانی ہے مثلاً حیض، پیدائش اور رضاعت وغیرہ۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۸) مالیات سے متعلق ان کی شہادت کے بارے میں محولہ بالا آیت سے استدلال کیا گیا ہے، جس کا تعلق لین دین سے ہے: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَهُمَا فَتُذَكَّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى۔(البقرة:(۲۸۳) { اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرا لیا کرو۔اور اگر دومرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔( یہ ) اس لیے (ہے) کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کروا دے۔شہادت میں دو عورتوں کی تخصیص کا تعلق مساوات و عدم مساوات سے نہیں بلکہ احتمال نسیان سے ہے کہ عورت کو علاوہ مخصوص عوارض نسوانی حیض حمل و رضاعت اور امور منزلی وتربیت اولاد میں مشغولی رات دن رہنے کی وجہ سے غیر معمولی ذہنی کوفت برداشت کرنی پڑتی ہے، جس سے قوت حافظہ کا متاثر ہونالازمی ہے۔حافظہ کی صحت و مضبوطی کا تعلق زیادہ تر توجہ قائم رکھنے سے ہے، اس لئے بطور احتیاط دو عورتوں کی شہادت کا ذکر کر کے اس کی یہی وجہ بیان کی گئی ہے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری سے اس کی تصحیح ہو جائے اور بوقت جرح و قدح اگر یہ ثابت ہو کہ کسی مرد کا حافظہ کمزور ہے تو اس کی شہادت بھی قابل اعتماد نہ ہوگی اور فیصلہ کے لئے تیسرے گواہ کی ضرورت ہوگی۔فقہاء میں سے ایک فریق نے حدود میں بھی عورتوں کی شہادت قابل قبول قرار دی ہے اور اس بارہ میں اس آیت سے استدلال کیا ہے: وَأَشْهِدُوا ذَوَى عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ۔(الطلاق:۳)